Saturday, January 17, 2026 | 28, 1447 رجب
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • ہندوستان کے دورے پر آئے جرمن چانسلر کا بنگلورو دورہ

ہندوستان کے دورے پر آئے جرمن چانسلر کا بنگلورو دورہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jan 13, 2026 IST

ہندوستان کے دورے پر آئے جرمن چانسلر کا بنگلورو دورہ
ہندوستان کے دورے پر آئے جرمن چانسلر فریڈرک مرز آج بنگلورو کا دورہ کرنے والے ہیں۔  جو ان کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوسرے دن کا حصہ ہے۔ اپنے دورے کے دوران ان کے  اور ان کے وفد کا شیڈول بنگلورمیں جرمن ٹیکنالوجی کمپنی بوش کے بھارت ہیڈکوارٹرز، کا دورہ کرنا ہے۔اس کے بعد وہ بھارتی انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے معروف مرکز برائے نینو سائنس اینڈ انجینئرنگ جائیں گے اور پھر بنگلور سے روانہ ہوں گے، سرکاری ذرائع نے بتایا۔ 
 
یہ فریڈرک مرز کا بطور جرمن چانسلر ایشیا کا پہلا دورہ ہے۔مرز نے پیر کو احمد آباد میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی، جس کے بعد دونوں ممالک نے 19 معاہدے طے کیے، جن میں دفاعی صنعت میں تعاون کا روڈ میپ اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون کو بڑھانے کے معاہدے شامل ہیں۔ ایک علیحدہ معاہدہ ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں شراکت داری کے لیے بھی طے پایا۔پیر کی صبح مودی اور مرز نے احمد آباد میں سابرمتی آشرم کا دورہ کر کے مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا  تھااور بعد میں گجرات کے مشہور پتنگ میلے کا افتتاح کیا تھا۔ 
 
دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ
 
بھارت اور جرمنی کے درمیان خدمات اور اشیا کی تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ برس تک دونوں ممالک کے درمیان (Trade volum) تجارتی حجم 50 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔ ایکرمن نے کہا کہ یہ سطح اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جرمنی بھارت کے ساتھ کتنی مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ بھارت میں دو ہزار سے زائد جرمن کمپنیاں موجود ہیں، جبکہ تقریباً 750 بھارتی کمپنیوں نے جرمنی میں سرمایہ کاری کی ہے۔
 
دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑی حد تک متوازن ہے۔ اشیا کے شعبے میں جرمنی کو معمولی برتری حاصل ہے، جبکہ خدمات کے شعبے میں بھارت کو کچھ فائدہ ہے۔ ایکرمن کے مطابق جرمن کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے ساتھ مستقبل میں تجارتی سرگرمیوں میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ اوسطاً ہر ہفتے دو کمپنیاں بھارت میں کاروبار شروع کرنے کے امکانات جانچنے کے لیے انڈو-جرمن چیمبر آف کامرس سے رابطہ کرتی ہیں۔