وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ پانچ ممالک کے دورے نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ اٹلی، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، نیدرلینڈ، سویڈن اور ناروے پر مشتمل اس دورے کو بھارت کی خارجہ پالیسی، اقتصادی شراکت داری اور توانائی و ٹیکنالوجی تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس دورے کے دوران مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن کا مقصد بھارت کے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔ تاہم، اس دورے پر اندرونِ ملک سیاسی بحث بھی جاری رہی، جہاں اپوزیشن نے عوامی مسائل اور بیرونی دوروں کے وقت پر سوالات اٹھائے۔
اٹلی: بھارت–یورپ اقتصادی تعاون پر زور
دورے کا آغاز اٹلی سے ہوا، جہاں وزیر اعظم مودی اور اٹلی کی وزیر اعظم Giorgia Meloni کے درمیان ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت–مڈل ایسٹ–یورپ اکنامک کوریڈور، تجارت، دفاع، کلین انرجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسے شعبوں میں تعاون پر گفتگو کی۔
دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارت تقریباً 16.77 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 2029 تک اسے 20 ارب یورو تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ سطحی سالانہ ملاقاتوں کے لیے بھی ایک نیا فریم ورک طے کیا گیا۔
یو اے ای: توانائی اور دفاعی تعاون میں پیش رفت
متحدہ عرب امارات میں وزیر اعظم مودی نے صدر سے ملاقات کی۔ اس دوران توانائی تحفظ، اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو، دفاعی تعاون اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ بھارت اور یو اے ای کے درمیان خام تیل کے ذخائر اور توانائی سپلائی چین کو مستحکم بنانے کے لیے تعاون پر بھی پیش رفت ہوئی۔ دفاعی شعبے میں سائبر سکیورٹی، میری ٹائم سکیورٹی اور جدید ٹیکنالوجی پر مشترکہ کام پر اتفاق کیا گیا۔
نیدرلینڈ: سیمی کنڈکٹر اور ٹیکنالوجی معاہدے
نیدرلینڈ کے دورے میں بھارت نے 17 معاہدوں پر دستخط کیے۔ سب سے اہم پیش رفت سیمی کنڈکٹر شعبے میں دیکھی گئی، جہاں ASML اور ٹاٹا الیکٹرانکس کے درمیان تعاون کا معاہدہ ہوا۔ یہ معاہدہ بھارت میں جدید چپ سازی کی صلاحیت بڑھانے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملک کو عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں مضبوط مقام دلانا ہے۔
سویڈن: گرین ٹیکنالوجی پر فوکس
سویڈن میں وزیر اعظم مودی نے وزیر اعظم Ulf Kristersson سے ملاقات کی۔ دونوں ممالک نے اپنی شراکت داری کو اسٹریٹیجک سطح پر اپ گریڈ کیا اور کلین انرجی، ٹیکنالوجی، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا۔
ناروے: گرین پارٹنرشپ اور ڈیجیٹل تعاون
ناروے کے دورے کو 43 سال بعد کسی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر بھارت اور ناروے نے گرین اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جس میں کلین انرجی، گرین شپنگ اور بلیو اکانومی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ماڈل—جیسے UPI اور آدھار کو عالمی سطح پر فروغ دینے پر بھی بات چیت ہوئی۔
سیاسی ردعمل اور بحث
اس دورے کے حوالے سے اندرونِ ملک سیاسی بحث بھی دیکھنے میں آئی، جہاں اپوزیشن نے خارجہ دوروں اور اندرونی معاشی چیلنجز کے درمیان ترجیحات پر سوال اٹھائے۔ حکومت کے حامی حلقے اسے بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی سفارتی حیثیت سے جوڑ رہے ہیں۔