• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • اس علاقہ میں بچوں کو اسکول جانے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ اسکول خود بچوں کے پاس آتے ہیں؟

اس علاقہ میں بچوں کو اسکول جانے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ اسکول خود بچوں کے پاس آتے ہیں؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 23, 2026 IST

اس علاقہ میں بچوں کو اسکول جانے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ اسکول خود بچوں کے پاس آتے ہیں؟
اب بچوں کو اسکول جانے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ اب اسکول بچوں کےپاس آئےگا۔ گجرات حکومت نے پرانی بسوں کو جدید کلاس رومز سے بدل دیا ہے۔ اور اس کا نام اسکول آن وہیلز" (School on Wheels) رکھا ہے۔ گجرات حکومت نے دور دراز نمک پیدا کرنے والے علاقوں میں رہنے والے بچوں کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے ایک منفرد پہل شروع کی ہے۔ ریاستی حکومت نے 28 ریٹائرڈ سرکاری بسوں کو جدید سہولیات سے لیس موبائل کلاس رومز میں تبدیل کر کے اس منصوبے کو "رَن شالا" (Ranshala) کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد ان بچوں تک تعلیم پہنچانا ہے جن کی پڑھائی موسمی ہجرت کی وجہ سے متاثر ہو جاتی ہے۔

 سی ایم نے اسکول آن وہیلز کا کیا لانچ 

 گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے بسوں کو ہری جھنڈی دکھائی۔گاندھی نگر میں منگل کے روز ان 28 سولر توانائی سے چلنے والی بسوں کو روانہ کیا گیا۔ یہ پروگرام ریاست میں شروع ہونے والی "شالا پر ویشوتسو" (Shala Praveshotsav) اسکول داخلہ مہم کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔

 ہجرت نہ بنے بچوں کی تعلیم میں رْکاوٹ 

یہ موبائل اسکول خاص طور پر اگاریا (Agariya) برادری کے بچوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں، جو گجرات کے نمک کے میدانوں میں کام کرتے ہیں۔ نمک کی پیداوار کے موسم میں یہ خاندان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسکول بچوں تک پہنچے گا، تاکہ بچوں کو تعلیم کے لیے اپنا علاقہ چھوڑنا نہ پڑے۔

 پرانےغیر استعمال شدہ بس بنے علم کا مرکز

نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے کہا کہ یہ منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح غیر استعمال شدہ سرکاری وسائل کو عوامی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بسیں پہلے کھڑی رہتی تھیں، اب وہ بچوں کے لیے علم کے سفر  کامراکز بن گئی ہیں۔

 کلاس رومز جدید ٹکنالوجی سے ہےلیس

 انھوں نے بتایا کہ ہر موبائل کلاس روم میں 20 سے زیادہ بچے تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ بسوں کو سولر پینل سے چلنے والے نظام سے جوڑا گیا ہے، جس کی مدد سے بجلی کے بغیر بھی کئی گھنٹوں تک کلاسز جاری رکھی جا سکتی ہیں۔ ان میں اسمارٹ ٹی وی، آن لائن کلاسز کے لیے سہولت، ڈش ٹی وی کنکشن، ایف ایم ریڈیو، ایل ای ڈی لائٹس اور پنکھے نصب کیے گئے ہیں۔

بس کو دی گئی اسکول کی شکل 

حکام کے مطابق ہر بس کو ایک مکمل اسکول کی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں بچوں کے لیے اسٹڈی ٹیبل، بلیک بورڈ، وائٹ بورڈ، لائبریری کی جگہ، پینے کے صاف پانی کا انتظام، واش بیسن اور اساتذہ کے لیے الگ جگہ بھی بنائی گئی ہے۔ سخت صحرائی ماحول کو دیکھتے ہوئے سایہ دار جالیاں اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

 دلچسپ چلتے پھرتے کلاس رومز 

ان  چلتی پھرتی  کلاس رومز میں صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور حفاظت کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ بسوں میں ابتدائی طبی امداد کا سامان، فائر ایکسٹنگوشر، صفائی کا سامان، وزن اور قد ناپنے کے آلات اور دیگر بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ بچوں کی دلچسپی کے لیے کھیلوں کا سامان بھی رکھا گیا ہے، جس میں لوڈو، سانپ سیڑھی اور دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔

28 بسوں کو کلاس رومز میں کیا گیا تبدیل 

یہ منصوبہ سمگر شکشا ابھیان، محکمہ تعلیم اور گجرات اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (GSRTC) کے مشترکہ تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد 6 سے 14 سال کی عمر کے ان بچوں کو تعلیم سے جوڑنا ہے جو ہجرت کرنے والے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔28 بسوں میں سے 20 بسیں سوراشٹر کے سریندر نگر ضلع کے پٹڈی تعلقہ، 4 بسیں پاٹن ضلع کے سانتل پور، 2 بسیں کَچھ کے انجار اور 2 بسیں موربی ضلع کے مالیہ علاقے میں خدمات انجام دیں گی۔

اسکول ڈراپ آوٹ کو روکنا مقصد 

گجرات حکومت کا کہنا ہے کہ "رَن شالا" منصوبہ اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ نمک کے میدانوں اور صحرائی علاقوں میں رہنے والے بچوں کے لیے یہ صرف ایک بس نہیں بلکہ ایک چلتا پھرتا اسکول ہے، جو ان تک تعلیم، امید اور بہتر مستقبل کا راستہ لے کر پہنچ رہا ہے۔

غیراستعمال بسوں کا بہترین استعمال 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنگھاوی نے کہا کہ اس پہل نے یہ ظاہر کیا کہ کس طرح غیر استعمال شدہ گجرات اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (GSRTC) بسوں کو عوامی فائدے کے لیے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا۔"جب کہ وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل نے وڈ نگر سے ریاست گیر شالا پرویشوتسو کا آغاز کیا ہے، گجرات ایس ٹی نے ایک بہترین مثال پیش کی ہے کہ کس طرح اس کی غیر استعمال شدہ بسوں کو آگریا علاقوں میں رنشالا اقدام کے ذریعے بہترین ممکنہ استعمال میں لایا جا سکتا ہے،"
 
انہوں نے کہا کہ یہ بسیں چار اضلاع میں گاندھی نگر سے آگریا بستیوں تک سفر کریں گی اور انہوں نے اس پروجیکٹ کو دور دراز کے صحرائی علاقوں میں رہنے والے بچوں کو براہ راست تعلیم کی فراہمی کا ایک منفرد نمونہ قرار دیا۔