Friday, May 15, 2026 | 27 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ہیٹی گینگ وار:ایک ہفتے میں 78 افراد ہلاک،5,000 سے زائد افراد بے گھر

ہیٹی گینگ وار:ایک ہفتے میں 78 افراد ہلاک،5,000 سے زائد افراد بے گھر

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 15, 2026 IST

ہیٹی گینگ وار:ایک ہفتے میں 78 افراد ہلاک،5,000 سے زائد  افراد بے گھر
کیریبین ملک ہیٹی کئی سالوں سے تشدد کی لپیٹ میں ہے، جس کی وجہ سے ملک کی صورتحال انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے۔ ہیٹی میں پرتشدد واقعات کبھی کبھار سامنے آتے رہتے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے ہیٹی میں متعدد گینگز سرگرم ہیں جو ملک میں تشدد پھیلا رہے ہیں۔ روزانہ ہی ہیٹی میں گینگ وار کے واقعات سامنے آتے ہیں اور اب ایک بار پھر ایسا ہی ہوا ہے۔ ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ آؤ پرنس کے مضافاتی علاقوں میں حال ہی میں گینگ وار دیکھنے کو ملا ہے۔ ہفتہ سے اب تک سٹے سولیئل اور کرُوا دیس بوکٹس علاقوں میں گینگ وار کی وجہ سے ہلچل  مچا ہوا ہے۔
 
78 افراد ہلاک:
 
ہیٹی میں گینگ وار کے باعث ہفتہ سے اب تک 78 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہیٹی آفس نے اپنی رپورٹ میں اس بارے میں معلومات دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گینگ وار میں کئی خطرناک گینگز کے جرائم پیشہ شامل تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں 5 مرد، 4 خواتین اور ایک چھوٹی لڑکی سمیت 10 عام شہری شامل ہیں۔
 
66 افراد زخمی:
 
ہیٹی میں حالیہ گینگ وار میں 66 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ کچھ افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
 
5,000 سے زائد لوگوں کو گھر چھوڑنے پڑے:
 
حالیہ گینگ وار کی وجہ سے 5,000 سے زائد لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔ متعدد خاندان اب بھی گینگ وار سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور جلد از جلد وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔ آپ کی معلومات کے لیے بتاتے چلیں کہ مارچ اور اپریل میں ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے گینگ وار کے واقعات کی وجہ سے تقریباً 8,000 لوگ نقل مکانی کر چکے تھے۔
 
تشدد کی وجہ سے بڑھ رہی ہے غربت:
 
ہیٹی کو کیریبین کا سب سے غریب ملک سمجھا جاتا ہے، جہاں پچھلے دو سالوں میں تیزی سے گینگ وار بڑھا ہے۔ تیزی سے بڑھتے تشدد کی وجہ سے ملک میں غربت بھی بڑھ رہی ہے۔ ہیٹی میں گینگ وار نے معیشت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے تجارت، نقل و حمل اور زراعت پر شدید منفی اثر پڑا ہے۔ بھتہ خوری، اغوا اور لوٹ مار کی وجہ سے متعدد کاروبار بند ہو رہے ہیں، روزگار کم ہو رہا ہے اور مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ لاکھوں لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی روزی روٹی چھن گئی ہے۔ زرعی پیداوار متاثر ہونے سے غذائی عدم تحفظ بھی بڑھا ہے۔ 
 
ساتھ ہی بتاتے چلیں کہ 5 مارچ سے 11 مئی کے درمیان ہیٹی میں مختلف گینگ وار کے واقعات میں تقریباً 305 افراد ہلاک اور 277 زخمی ہوئے۔ ان میں 63 عام شہری تھے جن میں 17 خواتین اور 13 بچے شامل تھے۔ باقی ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر گینگسٹر تھے۔