حج اسلام کا ایک اہم رکن اور عظیم عبادت ہے، یہ محض چند ظاہری اعمال کا مجموعہ نہیں بلکہ کامل اطاعت و فرماں برداریِ الٰہی کا مظہر ہے۔ اس عبادت کی صحیح ادائیگی کے لیے اس کے شرائط، آداب، ارکان، واجبات اور حدودِ شرعیہ کی معرفت نہایت ضروری ہے۔ احرام، طواف، سعی، وقوفِ عرفہ اور دیگر مناسکِ حج کو درست طریقے سے ادا کیے بغیر حج کی تکمیل ممکن نہیں، بلکہ بعض اوقات معمولی غفلت بھی گناہ، دم یا کفارے کا سبب بن جاتی ہے۔
اسی لیے ہر حاجی کے لیے ضروری ہے کہ وہ حج کے بنیادی مسائل و احکام اور مناسک کی صحیح کیفیت سے واقف ہو، تاکہ اس کی عبادت سنت و شریعت کے مطابق ادا ہو ۔ ذیل میں حج کے بعض اہم اور ضروری احکام اختصار کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں۔
احرام سے متعلق چند اہم و ضروری مسائل:
احرام :حج یا عمرہ یا دونوں کی نیت کر کے تلبیہ کہنا (یعنی لبیک کہنا۔) یا اس کے قائم مقام کوئی ذکرکرنا۔ یاد رہے احرام کے صرف دو رکن ہیں دل سے نیت اور اس کے ساتھ زبان سے وہ ذکر جس میں اللہ تعالی کی تعظیم ہو خواہ لبیک ہو یا کچھ اور جیسے سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر۔
ہندوستانیوں کی میقات " کوہ یلملم " کی محاذات ہے ، دور حاضر میں ہوائی جہاز کا سفر ہوتا ہے ، اس لیے اس میقات کا علم اور پھر وہاں احرام باندھنا بہت مشکل ہے، لہذا حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ حج ہاؤس سے ہی احرام باندھ لیں۔اور اگر حج سے پہلے مدینہ طیبہ جارہے ہیں اور وہاں سے مکہ مکرمہ جائیں گے تو ذو الحلیفہ سے احرام باندھیں۔ اس زمانہ میں اس جگہ کا نام ” آبیار علی “ ہے۔
احرام باندھنے کا طریقہ : یہ ہے کہ مسواک کریں اور نماز کی طرح وضو کریں، پھر خوب مل کر نہائیں، اگر کسی وجہ سے نہ نہا سکیں تو صرف وضو کر لیں ۔ مرد احرام کے کپڑے پہنیں یعنی ایک چادر عادت کے مطابق اوڑھیں کہ دونوں مونڈ ھے ، پیٹھ اور سینہ چھپار ہے اور ایک بے سلا تہبند باندھیں، یہ کپڑے سفید اور نئے بہتر ہیں۔
ممنوعاتِ احرام اور ان کی اقسام
احرام کے بعد مکلف پر بعض امور حرام ہو جاتے ہیں، جنھیں ممنوعاتِ احرام کہا جاتا ہے، ان امورسے اجتناب فرض و لازم ہے۔اور ان کا ارتکاب شرعاً ممنوع اور موجبِ مؤاخذہ ہے۔
احرام کی وجہ سے تین طرح کی پابندیاں عائد ہوتی ہیں:اوّل: وہ پابندیاں جن کا تعلق شکار سے ہے۔خشکی کے جانور کا شکار کرنا یا اس میں کسی قسم کی معاونت کرنا ممنوع و حرام ہے، خواہ براہِ راست شکار کرے یا بالواسطہ تعاون فراہم کرے، دونوں صورتیں ناجائز ہیں اور سب میں کفارہ واجب ۔
دوم: وہ پابندیاں جن کا تعلق انسان کے بدن، لباس، خوشبو اور زینت سے ہے۔ بدن سے متعلق پابندیوں میں سے کچھ کا تعلق بال سے ہے، اور بعض کا تعلق ناخن سے ہے ۔ ذیل میں ان دونوں کے چند اہم اصول بیان کیے جاتے ہیں۔
بال سے متعلق پابندی : احرام کی حالت میں بال چہارم (1/4) یا کسی عضو کے مکمل حصے سے دور کیے جائیں تو دم لازم ہوگا، اور اگر اس سے کم ہوں تو صدقہ لازم ہوگا۔البتہ مختلف جگہوں سے لیے گئے بالوں کا مجموعہ اگر چہارم کو پہنچ جائے تو دم، ورنہ صدقہ ہوگا۔
ناخن سے متعلق پابندی :احرام کی حالت میں ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کے پانچوں ناخن (یا تمام بیس ناخن) ایک ساتھ کاٹے جائیں تو ایک دم لازم ہوگا۔
اور اگر پانچ سے کم ناخن کاٹے جائیں تو ہر ناخن کے بدلے ایک صدقہ لازم ہوگا، یہاں تک کہ صدقوں کی مجموعی قیمت دم کے برابر ہو جائے تو کچھ کم کر لے یا دم دے۔ ناخن کاٹنے میں ہر آلہ (چاقو، ناخن تراش یا دانت) کا حکم ایک ہی ہے۔
لباس کی پابندی : احرام کی حالت میں سلا ہوا کپڑا یا سر/چہرے کا چہارم یا پورا حصہ چار پہر ((یعنی ایک دن یا ایک رات کی مقدار: مثلاً طلوع سے غروب یا غروب سے طلوع وغیرہ)) تک پہنا یا چھپایا جائے تو دم لازم ہوگا، اور اس سے کم میں صدقہ لازم ہوگا۔اگر چہارم سے کم حصہ چھپایا جائے تو چار پہر تک صدقہ، اور اس سے کم میں کوئی کفارہ نہیں (البتہ گناہ ہوگا)۔اور یہ احکام بلا قصد (بھول، لاعلمی، نیند) میں بھی جاری ہوں گے۔
خوشبو اور زینت :احرام کی حالت میں خوشبو کا استعمال اگر زیادہ مقدار میں ہو یا کسی بڑے عضو (جیسے سر ، چہرہ ) پر پوری طرح لگا یا ہو تو دم لازم ہوگا، اور اگر کم مقدار میں ہو تو صدقہ لازم ہوگا۔ کپڑے یا بچھونے میں بھی مقدار کا اعتبار ہوگا۔ زیادہ ہو تو دم اور کم ہو تو صدقہ لازم ہوگا۔
اور کھانے میں یہ ضابطہ ہے کہ منہ کے اکثر حصے میں اثر ظاہر ہو تو دم، ورنہ صدقہ لازم ہوگا۔ البتہ بلا قصد خوشبو لگ جانا یا پکانے سے اثر زائل ہو جانا موجبِ کفارہ نہیں، جبکہ قصداً استعمال ہر صورت میں موجبِ کفارہ ہے۔نیز جب خوشبو لگانا جرم قرار پایا تو اسے زائل کرنا واجب ہے، ورنہ بقا کی صورت میں دوبارہ کفارہ لازم ہوگا۔
سوم: وہ پابندیاں جن کا تعلق بیوی کے ساتھ تعلقات سے ہے۔
احرام کی حالت میں بوس و کنار یا شہوت کے ساتھ لمس سے دم لازم ہوتا ہے، اگرچہ انزال نہ ہو، اور بلا شہوت ہو تو کوئی کفارہ نہیں؛ اور اگر عورت کو بھی لذت حاصل ہو تو اس پر بھی دم لازم ہوگا۔
وقوفِ عرفہ سے پہلے جماع ہو تو حج فاسد، اسے پورا کرنا، دم دینا اور آئندہ سال قضا لازم ہوگی۔وقوف کے بعد جماع سے حج فاسد نہیں ہوتا، مگر:حلق و طواف سے پہلے ہو تو بدنہ لازم۔حلق کے بعد، طواف سے پہلے ہو تو دم لازم (بدنہ افضل)۔حلق و طواف (اکثر طواف) دونوں کے بعد ہو تو کوئی کفارہ نہیں۔جماع ہر حال میں (قصداً، بھول یا جبر) ایک ہی حکم رکھتا ہے، اور اس سے احرام ختم نہیں ہوتا بلکہ پابندیاں باقی رہتی ہیں۔
جنایاتِ احرام اور ان کے کفارات:
احرام کی پابندیوں کی خلاف ورزی کو جنایت کہا جاتا ہے، اور اس پر مختلف کفارات لازم ہوتے ہیں، جن کی تعیین جنایت کی نوعیت، مقدار اور قصد و عدمِ قصد کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ کفارے پانچ قسم کے ہیں :
۱-بَدَنہ: اس سے مراد ایک اونٹ یا گائے ہے۔
۲-دَم: اس سے مراد ایک بکری یا ایک بھیڑ ہے۔
بدنہ اور دم کے لیے حرم میں ذبح ہونا شرط ہے۔اس کا گوشت شرعی فقیر کا حق ہے۔نہ خود کھا سکتا ہے اور نہ کسی مالدار کو کھلا سکتا ہے۔ اور بدنہ اور دم کے جانور کے لیے وہی شرائط ہیں جو قربانی کے جانور کے لیے مقرر ہیں۔
۳-صدقہ : اس سے مراد صدقۂ فطر کی مقدار ہے یعنی گیہوں سے نصف صاع اور جو، کھجور اور کشمش سے ایک صاع۔ ایک صاع موجودہ رائج وزن کے لحاظ سے 4 کلو 94 گرام اور نصف صاع 2 کلو 47 گرام ہے۔صدقے میں یہ چیزیں بھی دی جا سکتی ہیں اور اس کی قیمت بھی ادا کر سکتے ہیں ۔ کفارے کا صدقہ صدقہ واجبہ ہے، لہٰذا اسی مصرف میں دیا جائے گا جس میں زکوٰۃ دی جاتی ہے۔صدقے فطر حرم کے مساکین کو دینا افضل ہے ۔البتہ غیر حرم کے فقرا کو بھی دیا جا سکتا ہے۔
۴- صدقۂ فطر کی مقدار سے کم صدقہ: بعض صورتوں میں، مثلاً دو یا تین بال ٹوٹ جائیں، تو ایک مٹھی اناج صدقہ کرنا کافی ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض صورتوں میں روٹی کا ایک ٹکڑا دینا بھی کفایت کرتا ہے۔
۵-روزہ : روزے رکھنے کے دو مواقع ہیں:ایک یہ کہ جو شخص حج کی قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو،اور دوسرا یہ کہ احرام کی پابندیوں میں اگر کسی سے غیر اختیاری طور پر خلاف ورزی ہو جائے، تو اس کے کفارے کے طور پر مخصوص تعداد میں روزے رکھنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔
کفارے کے روزے میں شرط یہ ہے کہ رات سے یعنی صبح صادق سے پہلے نیت کرلے ، اور یہ بھی نیت ہو کہ فلاں کفارہ کا روزہ ہے ، مطلق روزہ کی نیت، یا نفل ، یا کوئی اور نیت کی تو کفارہ ادا نہیں ہو گا۔کفارہ کے روزوں کا پے در پے ہونا، یا حرم میں رکھنا، یا حالت احرام میں رکھنا ضروری نہیں ہے ، البتہ افضل ہے کہ لگاتار رکھے اور حرم میں رکھے کہ حرم میں رکھنے پر زیادہ ثواب ہے۔اسی طرح آدمی احرام کے بغیر بھی رکھ سکتا ہے اور غیر حرم میں بھی رکھ سکتا ہے ۔
کفارات کے کچھ ضروری اصول:
قصد و اختیار کی صورت میں حکم:محرم اگر جان بوجھ کر بلا عذر کسی ممنوع امر کا ارتکاب کرے تو کفارہ بھی واجب ہے اور گنہگار بھی ہوگا، لہٰذا اس صورت میں توبہ بھی واجب ہے؛ کیوں کہ صرف کفارہ ادا کرنے سے پاک نہ ہوگا جب تک توبہ نہ کرے۔اور اگر انجانے میں یا عذر کی وجہ سے جرم کیا تو صرف کفارہ دینا کافی ہے۔
احرام کے ممنوعات پر صادر ہونے والے جرم میں کفارہ بہر حال لازمی ہے، چاہے جرم کا ارتکاب یاد سے کیا ہو یا بھول چوک سے ہو گیا ہو،اس فعل کا جرم ہونا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو،خوشی سے کیا ہو یا مجبور ہو کر،سوتے میں کیا ہو یا جاگتے ہوئے،نشے کی حالت میں کیا ہو یا بے ہوشی میں یا ہوش میں،خود اپنے اختیار سے کیا ہو یا دوسرے کے حکم سے کیا ہو۔ ہاں !جرم بھول کر یا کسی عذر کے سبب ہو تو گناہ نہیں ۔کفارہ بہر حال ہے۔
یاد رہے کہ کفارہ اس لیے ہے کہ بھول چوک، نیند یا مجبوری میں ہونے والے جرائم کا ازالہ ہو جائے؛ یہ اس لیے نہیں کہ جان بوجھ کر بلا عذر جرم کیے جائیں اور یہ سمجھ لیا جائے کہ کفارہ دے کر بری الذمہ ہو جائیں گے۔ کفارہ تو ہر حال میں دینا ہوگا، لیکن جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرنا انتہائی سخت اقدام ہے۔
جرمِ غیر اختیاری کا حکم : جرم اگر بیماری یا سخت گرمی یا شدید سردی یا زخم یا پھوڑے یا جوؤں کی سخت ایذا کے باعث ہو تو اسے جرمِ غیر اختیاری کہتے ہیں۔اس صورت میں اختیار ہے کہ دم دے دے، یا چھ مسکینوں کو ایک ایک صدقہ دے، یا چھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے، یا تین روزے رکھ لے۔ ان میں سے کسی ایک پر عمل کرنے سے کفارہ ادا ہو جائے گا۔
اگر چھ صدقے ایک ہی دن ایک ہی مسکین کو دے دیے جائیں تو وہ ایک ہی صدقہ شمار ہوگا، لہٰذا ضروری ہے کہ الگ الگ چھ مسکینوں کو دیے جائیں۔ البتہ اگر ایک مسکین کو چھ دن تک ہر روز ایک صدقہ دیا جائے، یا ایک ہی مسکین کو ہر روز صبح و شام کھانا کھلایا جائے تو بھی کفارہ ادا ہو جائے گا۔ اگر جرمِ غیر اختیاری ایسا ہو جس میں صدقہ کا حکم ہے، تو اختیار ہوگا کہ صدقہ کے بدلے ایک روزہ رکھ لے۔حج میں جہاں ایک کفارے (ایک دم یا ایک صدقہ) کا حکم ہے، وہاں اکثر صورتوں میں حجِ قران والے کے لیے دو کفاروں کا حکم ہوتا ہے۔
حاصل یہ کہ احرام ایک التزامِ شرعی ہے، جس کے بعد مکلف پر احتیاط، اجتناب اور تعظیمِ شعائر لازم ہو جاتی ہے،لہٰذا اس کی پابندیوں میں ادنیٰ غفلت بھی جنایت اور کفارہ کا سبب بن سکتی ہے۔
از قلم:محمد شاہد رضا مصباحی ؛خادم دارالافتاء جامعۃ المصطفیٰ،ہسلہ،بگودر،گریڈیہ(جھارکھنڈ)