Tuesday, March 03, 2026 | 13 رمضان 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • ہری دوار سے دہلی تک سنتوں کا مارچ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نئے قوانین کے خلاف بڑا احتجاج

ہری دوار سے دہلی تک سنتوں کا مارچ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نئے قوانین کے خلاف بڑا احتجاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Mar 01, 2026 IST

ہری دوار سے دہلی تک سنتوں کا مارچ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نئے قوانین کے خلاف بڑا احتجاج
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے نئے ضوابط کو لے کر ایک بار پھر مخالفت کی چنگاری بھڑک اٹھی ہے۔ ہری دوار میں یو جی سی کے نئے قوانین کے خلاف سادھو سنتوں کا احتجاج دیکھنے میں آیا۔ سنت سماج کے افراد نے بینرز اٹھا کر یو جی سی کے ضوابط کی مخالفت کی۔ درحقیقت ہری دوار کے سوامی سروانند گھاٹ سے یو جی سی کے خلاف سنت سماج کی ایک بڑی پدیاترا کا آغاز ہوا۔ اس یاترا میں یتی نرسنہانند، ادھیر کوشک اور یتی رامسوروپ آنند گیری سمیت متعدد سادھو سنت اور ان کے پیروکار شریک ہوئے۔ مظاہرین کا مقصد یو جی سی کے نئے قوانین کی مخالفت کرنا تھا۔
 
یو جی سی کے مجوزہ قانون کو "کالا قانون" قرار دیا 
 
سنتوں نے یو جی سی کے مجوزہ قانون کو "کالا قانون" قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ یاترا کے دوران نعرے بازی کرتے ہوئے کہا گیا کہ تعلیم اور روایات سے متعلق معاملات میں سنت سماج کو نظر انداز کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
 
8 مارچ کو دہلی کے رام لیلا میدان میں طاقت کا مظاہرہ
 
پدیاترا میں شامل سنتوں کے مطابق یہ مارچ 8 مارچ کو دہلی کے رام لیلا میدان پہنچے گا، جہاں دوپہر 12 بجے ایک بڑا طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ پنڈت ادھیر کوشک نے الزام لگایا کہ یہ قانون سورن سماج کے بچوں کے مستقبل کے لیے خطرہ بن رہا ہے اور اسے کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سنت سماج نے زیادہ سے زیادہ لوگوں سے دہلی پہنچ کر یکجہتی دکھانے کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر قانون واپس نہ لیا گیا تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔
 
سپریم کورٹ کی جانب سے روک
 
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے 13 جنوری 2026 کو بھارت کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں امتیاز روکنے کے لیے نئے ضوابط جاری کیے تھے۔ تاہم، سپریم کورٹ آف انڈیا نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات سے متعلق ان نئے قواعد پر روک لگا دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ یہ ضوابط اہم سوالات اٹھاتے ہیں، جنہیں نظر انداز کرنے کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں اور یہ سماج کو تقسیم کر سکتے ہیں۔