دنیا بھر میں دل کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور جب کسی مریض یا اس کے اہل خانہ کے سامنے "ہارٹ سرجری" کا لفظ آتا ہے، تو اکثر لوگ خوف اور بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاہم، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید سرجیکل تکنیکوں اور پیشرفت کی بدولت دل کی سرجری اب پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ، موثر اور کامیاب ہو چکی ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ دل کی سرجری کی ضرورت کب پیش آتی ہے، اس کی عام اقسام کیا ہیں، اور مریض سرجری سے قبل اور بعد میں کیا توقع کر سکتے ہیں۔
سرجری کی ضرورت کب پیش آتی ہے؟
ڈاکٹروں کے مطابق دل کی سرجری ہر مریض کے لیے پہلا آپشن نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس وقت تجویز کی جاتی ہے جب ادویات یا دیگر علاج (جیسے اینجیو پلاسٹی) تسلی بخش نتائج نہ دے رہے ہوں۔
اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
شریانوں کی شدید بندش (Coronary Artery Disease): جب دل کو خون فراہم کرنے والی اہم نالیوں میں چربی (پلاک) جم جائے اور خون کی روانی متاثر ہو۔
دل کے والوز میں خرابی (Valve Disorders): جب والو تنگ ہو جائیں یا ان میں سے خون کا رساؤ شروع ہو جائے۔
دل کے پیدائشی نقائص (Congenital Heart Defects): جو پیدائش کے وقت سے دل کی ساخت میں موجود ہوں۔
دل کی دھڑکن کا شدید بگڑنا (Arrhythmias): جب دیگر ادویات کام نہ کر رہی ہوں۔
دل کی سرجری کی عام اقسام
طبی دنیا میں ہارٹ سرجری کی متعدد اقسام ہیں، جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
کورونری آرٹری بائی پاس گرافٹنگ (CABG):
یہ سرجری کی سب سے عام قسم ہے، جسے عام زبان میں "بائی پاس سرجری" کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت جسم کے کسی دوسرے حصے (جیسے ٹانگ یا سینے) سے صحت مند رگ لے کر بند شریان کے آگے جوڑ دی جاتی ہے تاکہ خون کا نیا راستہ بن سکے۔
ہارٹ والو ریپیئر یا ریپلیسمنٹ:
خراب یا بیمار والو کی مرمت کی جاتی ہے یا اسے مصنوعی (مکینیکل یا ٹشو) والو سے بدل دیا جاتا ہے۔
منیملی انویزو سرجری (Minimally Invasive Heart Surgery):
جدید دور کی اس تکنیک میں پورا سینہ کھولنے کے بجائے چھوٹے کٹس (Incisions) کے ذریعے سرجری کی جاتی ہے، جس سے مریض کی بحالی تیزی سے ہوتی ہے۔
مریض اور اہل خانہ کیا توقع کر سکتے ہیں؟
ماہرینِ قلب کے مطابق سرجری کے مرحلے کو صحیح معلومات اور بہتر انداز میں سمجھ کر خوف پر قابو پایا جا سکتا ہے:
سرجری سے پہلے: مریض کا مکمل طبی معائنہ، اینستھیزیا کی تیاری اور خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
سرجری کے دوران: مریض اینستھیزیا کے زیر اثر مکمل بے ہوش رہتا ہے اور اسے کسی قسم کا درد محسوس نہیں ہوتا۔
سرجری کے فوراً بعد (ICU میں قیام): پہلے 24 سے 48 گھنٹے مریض کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ (ICU) میں رکھا جاتا ہے جہاں ماہر طبی عملہ ہر لمحہ دل کی کارکردگی اور بلڈ پریشر کی نگرانی کرتا ہے۔
صحت یابی اور بحالی (Recovery Phase): ہسپتال سے چھٹی کے بعد چند ہفتوں سے لے کر کچھ مہینوں میں مریض دوبارہ اپنی معمولاتِ زندگی کی طرف لوٹ سکتا ہے۔ ماہرین کی ہدایات کے مطابق ہلکی ورزش، متوازن غذا اور پرہیز اس مرحلے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا پیغام
ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کی سرجری کا بنیادی مقصد مریض کی زندگی کی کوالٹی کو بہتر بنانا اور آئندہ کے خطرات کو کم کرنا ہے۔ دل کی سرجری کے نام سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنے معالج سے کھل کر بات کریں، کیونکہ بروقت فیصلے اور آگاہی سے ہی ایک صحت مند اور لمبی زندگی کا آغاز ممکن ہے۔
نوٹ
اس/مضمون میں فراہم کردہ تمام معلومات صرف طبی آگاہی اور تعلیمی مقاصد کے لیے ہیں۔ یہ معلومات کسی بھی صورت میں پیشہ ورانہ طبی مشورے، تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں ہیں۔ دل کی بیماری یا کسی بھی طبی مسئلے کی صورت میں ہمیشہ اپنے معالج یا مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
مکمل جانکاری کے لیے یہاں کلک کریں👇