اتراکھنڈ کے رودرپریاگ ضلع میں گوری کنڈ کے قریب لینڈ سلائیڈنگ (پہاڑ سے مٹی اور پتھر گرنے) کے بعد کیدارناتھ یاترا کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق 22 جولائی کو ہونے والی شدید بارش کے باعث گوری کنڈ سے تقریباً ایک کلومیٹر آگے چھوڑی کے مقام پر پہاڑ سے پتھر اور ملبہ گر گیا، جس سے یاترا کا راستہ بند ہو گیا۔ انتظامیہ نے فوری طور پر یاتریوں کی آمد و رفت روک دی اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔
راستہ کھولنے کا کام جاری
ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ آفیسر نندن سنگھ راجوار نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی محکمہ تعمیرات عامہ (PWD) اور دیگر متعلقہ ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا۔انہوں نے کہا کہ ضلع ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور پولیس مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (NDRF) اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (SDRF) بھی فوری کاروائی کے لیے تیار ہیں۔
راستہ کب کھلے گا؟
حکام نے کہا ہے کہ کیدارناتھ یاترا کا راستہ صرف اس وقت دوبارہ کھولا جائے گا جب اسے مکمل طور پر محفوظ قرار دے دیا جائے گا۔ انتظامیہ نے یاتریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبررکھے اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
پہلے بھی لینڈ سلائیڈنگ ہو چکی ہے
یہ اس سال پہلی بار نہیں ہوا۔ گزشتہ ہفتے بھی گوری کنڈ(Gaurikund) اور چیل بسہ (Cheelbasa) کے درمیان چھوڑی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستہ بند کرنا پڑا تھا۔ بعد میں ملبہ ہٹانے کے بعد راستہ دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق سون پریاگ-گوری کنڈ کا راستہ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے مانسون کے دوران اکثر لینڈ سلائیڈنگ کا شکار رہتا ہے۔
مئی میں بھی بڑا ریسکیو آپریشن ہوا تھا
اس سے قبل مئی میں مسلسل لینڈ سلائیڈنگ کے بعد NDRF اور SDRF نے مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے 10 ہزار سے زیادہ یاتریوں کو سون پریاگ-گوری کنڈ راستے سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا تھا۔
کیدارناتھ یاترا کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کیوں ہوتی ہے؟
کیدارناتھ یاترا کا راستہ اونچے پہاڑی علاقوں سے گزرتا ہے۔ مانسون کے دوران شدید بارش کی وجہ سے مٹی اور چٹانیں ڈھیلی ہو جاتی ہیں، جس کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے جب بھی ایسا واقعہ پیش آتا ہے، انتظامیہ احتیاط کے طور پر یاترا کو عارضی طور پر روک دیتی ہے تاکہ یاتریوں کی جان محفوظ رہے۔