Friday, January 23, 2026 | 04, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • غذا اور جگرکی صحت: بظاہر صحت مند کھانے بھی فیٹی لیور کا سبب بن سکتے ہیں

غذا اور جگرکی صحت: بظاہر صحت مند کھانے بھی فیٹی لیور کا سبب بن سکتے ہیں

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Hidden Diet Risks Can Trigger Fatty Liver Disease, Experts Warn | Last Updated: Jan 23, 2026 IST

غذا اور جگرکی صحت: بظاہر صحت مند کھانے بھی فیٹی لیور کا سبب بن سکتے ہیں
جگر انسانی جسم کا ایک نہایت اہم عضو ہے، جو خوراک کے میٹابولزم، زہریلے مادوں کے اخراج اور توانائی کے ذخیرے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق روزمرہ غذا میں معمولی سی بے احتیاطی بھی جگر کی چربی (فیٹی لیور) سمیت کئی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔یہ بات منصف ٹی وی کے معروف پروگرام ’’صحت اور ہم‘‘ میں کلینکل ڈائیٹشین ڈاکٹر سیدہ سارہ نے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر لوگ غذا کو صرف وزن کم کرنے سے جوڑتے ہیں، حالانکہ خوراک کا براہِ راست اثر جسم کے ہر عضو، بالخصوص جگر، پر پڑتا ہے۔
 
ڈاکٹر سیدہ سارہ کے مطابق بازار میں دستیاب کئی ایسی اشیاء جو بظاہر صحت بخش سمجھی جاتی ہیں، درحقیقت جگر کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر پھلوں کے جوس اور اسموتھیز، اگرچہ قدرتی ہوتے ہیں، مگر ان میں موجود زیادہ مقدار میں فرکٹوز براہِ راست جگر میں جا کر چربی بڑھاتا ہے، جو فیٹی لیور کی ایک بڑی وجہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق پھل کو پورے پھل کی شکل میں کھانا زیادہ مفید ہے کیونکہ اس میں موجود فائبر شوگر کے جذب کو سست کرتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ شہد اور گڑ کو اکثر چینی کا صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ بھی جگر میں اسی طرح میٹابولائز ہوتے ہیں اور ان کا زیادہ استعمال ٹرائگلیسرائیڈز بڑھا سکتا ہے، جس سے فیٹی لیور کی حالت خراب ہو سکتی ہے۔
 
ڈاکٹر سارہ نے براؤن بریڈ اور پروٹین بارز پر بھی خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں دستیاب زیادہ تر براؤن بریڈ دراصل میدے پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں صرف رنگ شامل کیا جاتا ہے۔ یہ شوگر لیول اور جگر کی چربی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی طرح پروٹین بارز میں موجود مصنوعی شکر، ایملسیفائرز اور دیگر کیمیکل اجزا جگر پر منفی اثر ڈالتے ہیں، خاص طور پر اگر ان کا استعمال بغیر نگرانی کے کیا جائے۔
 
خشک میوہ جات جیسے کھجور، انجیر اور کشمش کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ نقصان دہ نہیں، مگر چونکہ ان میں چینی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اس لیے انہیں مٹھائی سمجھ کر محدود مقدار میں استعمال کرنا چاہیے۔فیٹی لیور کے علاج کے حوالے سے ڈاکٹر سیدہ سارہ کا کہنا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں اس بیماری کو صرف غذا اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے مکمل طور پر ریورس کیا جا سکتا ہے۔ وزن میں صرف 5 سے 10 فیصد کمی بھی جگر کی چربی اور لیور انزائمز میں نمایاں بہتری لا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند جگر کے لیے متوازن غذا، اعتدال اور درست معلومات بے حد ضروری ہیں، کیونکہ ہر وہ چیز جو ’’ٹرینڈ‘‘ میں ہو، لازمی طور پر صحت کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی۔  قارئین آپ ڈاکٹر سارہ سے مکمل بات چیت منصف ٹی وی پر بھی دیکھ سکتےہیں۔