ہماچل پردیش کے دھرم شالا کے ایک کالج میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ نے جنسی ہراسانی کے بعد تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا۔ متاثرہ کے والد کی شکایت پر پولیس نے ایک پروفیسر سمیت تین دیگر کے خلاف ریگنگ اور جنسی ہراسانی کے الزامات میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ شکایت کے مطابق، متاثرہ کالج میں دوسرے سال کی طالبہ تھی۔ الزام ہے کہ 18 ستمبر کو کالج کی تین طالبات نے اس کے ساتھ مارپیٹ کی اور دھمکیاں دیں، جس سے وہ ذہنی طور پر ٹوٹ گئی۔
طالبہ نے مرنے سے پہلے بنایا ویڈیو
طالبہ نے مرنے سے پہلے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی معلومات دیتے ہوئے موبائل سے ویڈیو ریکارڈ کیا تھا۔ اس نے بتایا کہ کس طرح پروفیسر نے اسے غلط طریقے سے چھوا اور ذہنی وجنسی ہراسانی کے کئی اور معاملات بھی ہوئے۔ دھرم شالا کے گورنمنٹ ڈگری کالج کی سیکنڈ ایئر کی سٹوڈنٹ کے والد نے پولیس میں شکایت میں الزام لگایا ہے کہ 18 ستمبر کو تین طالبات نے ان کی بیٹی کے ساتھ برہمی سے ریگنگ کی اور اسے چپ رہنے کی دھمکی دی۔
شکایت میں لگایا گیا ہے یہ الزام
والد نے کالج کے پروفیسر اشوک کمار پر غیر مہذب رویے، ذہنی طور پر ہراساں کرنے اور نامناسب رویے کے سنگین الزامات لگائے ہیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے بعد طالبہ خوف اور تناؤ میں رہتی تھی جس کی وجہ سے اس کی حالت خراب ہوتی چلی گئی۔
علاج کے دوران ہوئی موت
اہل خانہ کے مطابق طالبہ کا مختلف اسپتالوں میں علاج کرایا گیا، لیکن 26 دسمبر کو لدھیانہ کے ڈی ایم سی اسپتال میں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ والد کا کہنا ہے کہ بیٹی کی حالت اور خاندانی صدمے کی وجہ سے پہلے شکایت درج نہیں کرا سکے۔
پولیس تحقیقات میں مصروف
کانگڑا اے ایس پی اشوک رتن نے بتایا کہ شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ میڈیکل ریکارڈ، ویڈیو بیانات اور دیگر شواہد کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ حقائق کی بنیاد پر مزید قانونی کاروائی کی جائے گی۔ پولیس نے تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 75، 115(2)، 3(5) اور ہماچل پردیش تعلیمی ادارے (ریگنگ کی ممانعت) ایکٹ، 2009 کی دفعہ 3 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔