صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے چیئرمین جی سکھیندر ریڈی سے ملاقات کی، اور ان کے استعفیٰ کی منظوری کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ کویتا نے مطالبہ کیا کہ استعفیٰ منظور کرنے سے قبل انہیں ایوان میں اظہار خیال کا موقع دیا جائے تاکہ وہ عوام کے سامنے اپنے فیصلے کی وجوہات رکھ سکیں۔ صدرنشین کونسل نے یقین دہانی کرائی کہ 5 یا 6 جنوری کو کسی ایک دن انہیں کونسل میں اظہار خیال کا موقع دیا جائے گا۔
استعفیٰ کی وجوہات واضح کرنے ایوان میں موقع دیں
بعد ازاں کونسل میڈیا پوائنٹ پر بات کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے تلنگانہ کے عوام کو نئے سال کی مبارکباد پیش کی اور بطور بیٹی اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس سال عوام کی تمام تمنائیں پوری ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل سی عہدہ سے استعفیٰ دے کر چار ماہ گزر چکے ہیں مگر تاحال اسے منظور نہیں کیا گیا، اسی لئے انہوں نے چیئرمین سے باضابطہ طور پر ملاقات کی اور پارلیمانی روایات کے مطابق ایوان میں بولنے کا حق مانگاجو انہیں دیا جا رہا ہے اور اسی دن وہ عوام کے سامنے اپنے استعفیٰ کی وجوہات واضح کریں گی۔
کےسی آر کو پھانسی دینے کی بات سن کرخون کھول اٹھا
کلواکنٹلہ کویتا نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی جانب سے کے سی آر کو دہشت گرد سے تشبیہ دینے اور پھانسی جیسے الفاظ استعمال کرنے پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ جیسے ہی انہوں نے کے سی آر کو پھانسی دینے کی بات سن کر ان کا خون کھول اٹھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وزیر اعلیٰ کو فوری طور پر اپنی زبان اور لب و لہجہ تبدیل کرنا ہوگا کیونکہ اس طرح کے الفاظ کسی جمہوری منصب کے شایان شان نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی زیرقیادت تحریک کے نتیجہ میں ہی تلنگانہ ریاست وجود میں آئی اور آج اسی ریاست کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ان پر اس طرح کی تنقید ناقابل قبول ہے۔
وزیر اعلیٰ کے اس الزام کو مسترد
کویتا نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پالمورو-رنگا ریڈی لفٹ ایریگیشن پراجکٹ کے ذریعہ گزشتہ 12 برسوں میں ایک ایکڑ زمین کو بھی پانی فراہم نہیں کیا گیا اور یہ بات سو فیصد سچ ہے، ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعلیٰ کے اس الزام کو مسترد کردیاکہ بی آر ایس نے دس برس تک پراجکٹ لیت ولعل کی نذر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انٹیک پوائنٹ کیوں بدلا گیا، یہ بات کے سی آر ہی بہتر طور پر اسمبلی میں آکر واضح کریں تو عوام کو حقیقت سمجھ میں آئے گی، محض نام نہاد افراد کو اختیارات دے کر وضاحتیں دلوانے سے سچ سامنے نہیں آئے گا۔ انہوں نے بعض افراد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان ہی کی وجہ سے پالامورو–رنگا ریڈی پراجکٹ کو نقصان پہنچا، پہلا پیکیج متاثر ہوا اور پورا منصوبہ مسائل کا شکار ہوا، اس کے باوجود انہیں اہم عہدے دے کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
بی آر ایس کو خدا بھی نہیں بچا سکتا
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کے سی آر اسمبلی میں نہیں آئے تو بی آر ایس کو خدا بھی نہیں بچا سکتا اور تلنگانہ کے عوام کے مفاد میں انہیں ایوان میں آکر تمام حقائق پیش کرنےہوں گے۔ کویتا نے استفسار کیاکہ اگر پالمورو–رنگا ریڈی کو قانونی مسائل درپیش ہیں تو پھر بھیما، نیٹم پاڈو، سنڈیلا اور کلواکرتی جیسے منصوبوں کا کیا حال ہے، جہاں نہ مکمل پانی فراہم ہو رہا ہے اور نہ ہی بنیادی مرمت کے لئے رقم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کے قائدین سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر اپنے علاقوں کے مفاد میں پانی کے مسائل پر متحد ہوکر کام کر رہے ہیں جبکہ تلنگانہ کے قائدین میں وہ سنجیدگی اور دیانت نظر نہیں آتی۔ انہوں نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ رائل سیما لفٹ ایریگیشن اور پوتی ریڈی پاڈو جیسے منصوبوں پر حکم التواء کے باوجود وہاں کام جاری رہا، مگر تلنگانہ عوام کے سامنے بہانے بنائے جارہے ہیں۔
اسمبلی میں سیاسی الزام تراشی اور وقت گزاری
آخر میں کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ دو برس تک میڈی گڈہ کو خشک رکھا گیا، ہزاروں کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور اب مرمت کے لئے کنٹراکٹ کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ اسمبلی کو صرف سیاسی الزام تراشی، وقت گزاری اور نمائشی سرگرمیوں تک محدود کر دیا گیا ہے، انہوں نے ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کو سختی سے متنبہ کیا کہ وہ اپنا لب و لہجہ بدلیں کیونکہ کے سی آر کو دہشت گرد سے تشبیہ دینا نہ صرف تحریک بلکہ تلنگانہ کی توہین کے مترادف ہے۔