ہندوستان کی جنگِ آزادی کی تاریخ ایک ایسی داستان ہے جو کروڑوں ہندوستانیوں کے لہو، پسینے اور بے مثال قربانیوں سے لکھی گئی ہے۔ جب بھی 15 اگست کو ملک کی فضاؤں میں ترنگا لہراتا ہے، تو وہ صرف ریشم کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے تینوں رنگوں اور اشوک چکر میں ان تمام شہیدوں کی روحی گونج شامل ہوتی ہے جنہوں نے اس مٹی کی خاطر اپنے جان و مال کا نذرانہ پیش کیا۔
آج کے سیاسی اور سماجی ماحول میں جہاں بعض اوقات ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے یا ان کے کردار کو تاریخ کے صفحات سے دھندلانے کی کوشش کی جاتی ہے، وہاں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم تاریخ کے سچے اور مستند اوراق کو پلٹیں اور دیکھیں کہ "تحریکِ آزادیِ ہند میں مسلمانوں کا کیا کردار رہا ہے۔
آئیے، 1757 کی جنگِ پلاسی سے لے کر 1947 کی آزادی تک کے ان سنہرے صفحات کا ایک تفصیلی اور تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔
1. آزادی کی پہلی چنگاری: نواب سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان
ہندوستان میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ناپاک قدموں کو سب سے پہلے جس حکمران نے پہچانا اور ان کے خلاف تلوار اٹھائی، وہ بنگال کے نواب سراج الدولہ تھے۔ 1757ء میں جنگِ پلاسی کے دوران انہوں نے انگریزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دی، لیکن سر تسلیم خم نہیں کیا۔
اس کے بعد جنوب میں میسور کا وہ شیر اٹھا جس کے نام سے انگریز بھی کانپتے تھے—ٹیپو سلطان (شیرِ میسور)۔
ٹیپو سلطان دنیا کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے جنگ میں راکٹ ٹیکنالوجی (MYSORIAN ROCKETS) کا استعمال کیا۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف چار جنگیں لڑیں (Anglo-Mysore Wars)۔ 1799ء میں سرنگاپٹم کے میدان میں لڑتے ہوئے ٹیپو سلطان نے وہ تاریخی جملہ کہا تھا جو آج بھی آزادی کے متوالوں کے دلوں میں گونجتا ہے:
گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔
انگریز جنرل ہارس ہیرس نے ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد ان کی لاش پر کھڑے ہو کر کہا تھا: آج سے ہندوستان ہمارا ہے! ۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انگریزوں کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ایک مسلمان حکمران تھا۔
2. 1857ء کا پہلا آزادی کا انقلاب (First War of Independence)
1857ء کا غدر یا پہلی جنگِ آزادی کسی ایک فرد کی نہیں، بلکہ پورے ہندوستان کی مشترکہ جدوجہد تھی۔ لیکن اس انقلاب کا مرکزی نقطہ اور قیادت ایک مسلمان بادشاہ کے ہاتھ میں تھی—بہادر شاہ ظفر۔ تمام ہندو اور مسلمان راجاؤں اور عوام نے اتفاقِ رائے سے 82 سالہ بہادر شاہ ظفر کو اپنا قائد تسلیم کیا۔ جب انقلاب کو انگریزوں نے بے دردی سے کچل دیا، تو بہادر شاہ ظفر کے شہزادوں کے سر قلم کر کے ایک تھال میں سجا کر ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ بادشاہ نے اپنے بچوں کے کٹے ہوئے سروں کو دیکھ کر تاریخی الفاظ کہے:
الحمدللہ! تیمور کی اولاد انگریزوں کے سامنے ایسے ہی سرخرو ہو کر باپ کے سامنے آتی ہے۔
علماءِ کرام کا فتاویٰ اور بیگم حضرت محل
1857ء کی جنگ کو مذہبی اور علمی تقویت علامہ فضلِ حق خیر آبادی اور ان کے ساتھی علماء نے دی۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف "جہاد" کا تاریخی فتوٰی جاری کیا، جس کی پاداش میں انہیں جزائرِ انڈمان (کالا پانی) بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے دردناک حالات میں وفات پائی۔ اسی دوران اودھ کی ملکہ بیگم حضرت محل نے انگریزوں کی غلامی قبول کرنے کے بجائے لکھنؤ کی گلیوں میں انگریزی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور نیپال کے جنگلوں میں روپوش ہو کر اپنی زندگی وطن پر نثار کر دی۔
1857ء کے بعد انگریزوں کا سب سے بڑا نشانہ مسلمان اور بالخصوص علماء بنے۔ ایک انگریز مؤرخ ایڈورڈ تھامسن نے لکھا تھا کہ:
"صرف دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں 1857ء سے 1862ء کے درمیان 50,000 سے زائد مسلمانوں کو پھانسی دی گئی۔ دہلی کی چاندنی چوک سے لے کر لاہور تک کوئی ایسا درخت نہیں تھا جس پر کسی عالم یا مسلمان کی لاش نہ لٹک رہی ہو۔"
3. ریشمی رومال تحریک (Silk Letter Movement)
20 ویں صدی کے آغاز میں جب انگریزی حکومت کے خلاف احتجاج جرم سمجھا جاتا تھا، تب شیخ الہند مولانا محمود حسن اور ان کے شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی نے ایک عالمی سطح کی خفیہ تحریک شروع کی جسے "ریشمی رومال تحریک" (Silk Letter Movement) کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کا مقصد افغانستان، ترکی، اور روس کی مدد سے ہندوستان سے انگریزوں کا تختہ پلٹنا تھا۔ راز افشا ہونے پر مولانا محمود حسن اور مولانا حسین احمد مدنی کو گرفتار کر کے مالٹا کے جزیرے میں قید کر دیا گیا جہاں ان پر شدید تشدد کیا گیا، لیکن انہوں نے اپنے وطن کے راز فاش نہیں کیے۔
4. تحریکِ خلافت اور عدم تعاون (Non-Cooperation Movement)
1919ء میں جب مہاتما گاندھی نے انگریزوں کے خلاف تحریکِ عدم تعاون (Non-Cooperation Movement) شروع کرنے کا فیصلہ کیا، تو اس تحریک کو سب سے بڑا عوامی سہارا تحریکِ خلافت اور مسلمان رہنماؤں سے ملا۔ علی برادران (مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی): انہوں نے ملک کے کونے کونے میں جا کر ہندو مسلم اتحاد کا پیغام دیا اور انگریزی ملازمتوں، سکولوں اور کپڑوں کے بائیکاٹ کی مہم چلائی۔ مولانا محمد علی جوہر نے گول میز کانفرنس (Round Table Conference) میں لندن جا کر انگریزوں کے منہ پر کہا تھا: "میں اپنے ملک کی آزادی کا پروانہ لینے آیا ہوں۔ اگر تم مجھے آزادی نہیں دو گے، تو مجھے یہاں دفن کرنے کے لیے دو گز زمین دینی پڑے گی، کیونکہ میں ایک غلام ملک میں واپس نہیں جاؤں گا۔"
5. آزادی کے نعرے، علامات اور قومی شناخت
آج پورا ہندوستان جن نعروں اور قومی علامات کو حب الوطنی اور آزادی کی جدوجہد کی علامت سمجھتا ہے، ان میں مسلمانوں اور دیگر برادریوں سے تعلق رکھنے والی کئی اہم شخصیات کا بھی نمایاں کردار رہا ہے۔ آزادی کی تحریک کسی ایک مذہب یا طبقے کی جدوجہد نہیں تھی، بلکہ مختلف مذاہب، زبانوں اور علاقوں کے لوگوں نے مل کر اسے کامیاب بنایا۔
انقلاب زندہ باد
یہ مشہور نعرہ مولانا حسرت موہانی سے منسوب ہے۔ انہوں نے آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا اور 1921ء میں احمدآباد میں ہونے والے کانگریس اجلاس میں مکمل آزادی کا مطالبہ پیش کیا۔ بعد میں بھگت سنگھ اور دیگر انقلابیوں نے "انقلاب زندہ باد" کو اپنا مقبول نعرہ بنا لیا، جو آج بھی ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں گونجتا ہے۔
بھارت چھوڑو
مشہور نعرہ "Quit India" یا "بھارت چھوڑو" کو آزادی کے کارکن اور بمبئی کے سابق میئر یوسف مہر علی نے پیش کیا تھا۔ 1942ء کی بھارت چھوڑو تحریک کے دوران یہ نعرہ برطانوی حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت کی ایک بڑی علامت بن گیا۔
جے ہند
"جے ہند" کا نعرہ عابد حسن صفراوانی سے منسوب ہے، جو حیدرآباد سے تعلق رکھتے تھے اور نیتا جی سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج سے وابستہ تھے۔ یہ نعرہ بعد میں آزاد ہندوستان کی قومی شناخت کا ایک مقبول حصہ بن گیا۔
ترنگے کی موجودہ شکل
ہندوستانی قومی پرچم کی بنیادی ساخت پنگالی وینکیا کے تصور سے جڑی ہوئی ہے۔ تاہم موجودہ ترنگے کی حتمی شکل تیار کرنے میں سریا طیب جی کا بھی اہم کردار تھا۔ انہوں نے چرخے کی جگہ اشوک چکر کو شامل کرنے اور پرچم کی حتمی ترتیب کو شکل دینے میں اہم کام کیا۔ 22 جولائی 1947ء کو دستور ساز اسمبلی نے موجودہ قومی پرچم کو منظور کیا۔
یہ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہندوستان کی آزادی صرف چند لوگوں کی قربانی کا نتیجہ نہیں تھی۔ اس جدوجہد میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے بے شمار لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا۔ اسی مشترکہ جدوجہد نے ہندوستان کی آزادی کی بنیاد رکھی۔
6. مولانا ابوالکلام آزاد: ہندوستان کا عظیم معمار
تحریکِ آزادی کے تذکرے میں مولانا ابوالکلام آزاد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ 35 سال کی عمر میں انڈین نیشنل کانگریس کے سب سے کم عمر صدر بنے۔انہوں نے اپنے اخبارات 'الہلال' اور 'البلاغ' کے ذریعے ہندوستانیوں میں آزادی کی روح پھونکی۔ مولانا آزاد نے ہمیشہ "متحدہ قومیت" (Composite Nationalism) اور "ہندو مسلم اتحاد" کی وکالت کی۔ انہوں نے تقسیمِ ہند کی شدید مخالفت کی اور مسلمانوں سے کہا تھا کہ یہ ملک ان کا اپنا ہے، انہیں اپنے آباء و اجداد کی زمین چھوڑ کر کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم کی حیثیت سے مولانا آزاد نے ملک میں ایجوکیشن کا مضبوط بنیادی ڈھانچہ قائم کیا۔ IIT، UGC، ساہتیہ اکادمی، اور سائنس اکیڈمی جیسے اداروں کی بنیاد مولانا آزاد کے ہاتھوں ہی رکھی گئی۔
7. آزاد ہند فوج (INA) اور مسلمان
نیتا جی سبھاش چندر بوس کی 'آزاد ہند فوج' (Indian National Army) ہندو مسلم اتحاد کی ایک شاندار مثال تھی۔
جنرل شاہنواز خان: نیتا جی کے سب سے قریبی اور INA کی کمانڈنگ افسر تھے۔ جب انگریزوں نے لال قلعہ میں شاہنواز خان، پریم سہگل اور گربخش سنگھ ڈھلوں پر تاریخی مقدمہ (Red Fort Trials) چلایا، تو پورا ہندوستان ان کی رہائی کے لیے سڑکوں پر اتر آیا۔
کرنل شوکت ملک: انہوں نے ہی سب سے پہلے 14 اپریل 1944ء کو مودی پور (منی پور) میں آزاد ہند فوج کی طرف سے ہندوستان کی مٹی پر ترنگا لہرایا تھا۔
بشیر احمد، حبیب الرحمن، اور کائپٹن عباس: یہ تمام وہ مجاہدین تھے جنہوں نے نیتا جی کے شانہ بشانہ انگریزی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کی اور اپنی جانیں نذرانہ میں دیں۔
8. 1947ء کے بعد: حب الوطنی اور بقا کی جدوجہد
1947ء میں جب ملک تقسیم ہوا، تو کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں نے جنابح کے 'دو قومی نظریے' (Two-Nation Theory) کو مسترد کر دیا اور گاندھی، نہرو، اور مولانا آزاد کے سیکولر اور جمہوری ہندوستان کو اپنا وطن منتخب کیا۔ انہوں نے اپنی مرضی سے اس مٹی کو چوما اور یہیں رہنے کا فیصلہ کیا۔
آج کا مسلمان جب آزادی کا جشن مناتا ہے، تو اس کے سینے میں فخر بھی ہوتا ہے اور ایک درد بھی۔ فخر اس بات کا کہ اس مٹی کو سنوارنے اور آزاد کرانے میں اس کے اجداد کا خون شامل ہے، اور درد اس بات کا کہ آج اسی سے اس کی حب الوطنی کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔
شعر:
"ہمیں بھی یاد ہیں اپنے بزرگوں کے قدموں کے نشاں
یہ مٹی یوں ہی نہیں سرخ، اس میں ہمارا بھی لہو شامل ہے"
نوٹ
ہندوستان کی آزادی کسی ایک مذہب یا ذات کی مرہونِ منت نہیں ہے۔ یہ ایک گلدستہ ہے جس میں ہر پھول کی اپنی خوشبو ہے۔ مسلمانوں نے نواب سراج الدولہ کی تلوار سے لے کر مولانا حسرت موہانی کے قلم تک، اور ٹیپو سلطان کی شہادت سے لے کر بھگت سنگھ کے ساتھ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تک، ہر مرحلے پر آزادی کی قیمت چکائی ہے۔ یومِ آزادی (15 اگست) صرف ماضی کو یاد کرنے کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ ہم اپنے اس پیارے وطن ہندوستان کے آئین (Constitution)، سیکولرازم، اور جمہوری اقدار کی حفاظت کے لیے ہمیشہ ڈٹے رہیں گے۔ جب تک اس ملک کی مٹی میں مسلمانوں اور تمام ہندوستانیوں کے اتحاد کی خوشبو باقی ہے، تب تک ترنگا یوں ہی فضاؤں میں بلندی سے لہراتا رہے گا!