ملک آج اپنا 80واں یومِ آزادی منا رہا ہے۔ اس موقع پر نئی دہلی کے تاریخی لال قلعہ پر وزیراعظم نریندر مودی نے قومی پرچم لہرایا اور قوم سے خطاب کیا۔ یومِ آزادی کی مرکزی تقریب میں حکومت کے کئی بڑے وزرا، اعلیٰ عہدیداروں اورمختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ لال قلعہ پر منعقدہ تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر خزانہ نرملا سیتارامن اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر سمیت کئی اہم رہنما موجود رہے۔ اس کے علاوہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری پی کے مشرا سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
راہل گاندھی کی غیر حاضری پر سوال
تاہم، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی کی اس سال لال قلعہ کی تقریب میں عدم شرکت سیاسی بحث کا موضوع بن گئی۔ بی جے پی نے راہل گاندھی کی غیر حاضری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن کو قومی تقریبات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنا چاہیے۔
پرہلاد جوشی نے کیا حملہ
مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی نے راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یومِ آزادی اور یومِ جمہوریہ کو سیاست سے بالاتر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم یومِ آزادی کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہیں تو وہ کسی ایک جماعت کے رہنما کی حیثیت سے نہیں بلکہ پورے ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے خطاب کرتے ہیں۔ جوشی نے اپوزیشن کی جانب سے تقریب میں شرکت نہ کرنے کو غلط روایت قرار دیا اور کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو ایسی قومی تقریبات میں ضرور شریک ہونا چاہیے۔
بی جے پی ترجمان نے بھی اٹھائے سوال
بی جے پی ترجمان پردیپ بھنڈاری نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر راہل گاندھی کی غیر حاضری پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کوئی ایسا عوامی نمائندہ، جو ملک کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے، قومی دن کی تقریب سے اس طرح دور رہ سکتا ہے؟بھنڈاری نے راہل گاندھی پر الزام لگایا کہ ان کی غیر حاضری ایک "تقسیم پیدا کرنے والی ذہنیت" کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ راہل گاندھی کا تقریب سے دور رہنا وندے ماترم کے حوالے سے ان کے مبینہ موقف سے جڑا ہوا ہے۔ یوں 80ویں یومِ آزادی کا دن جہاں ملک کے لیے قومی فخر اور آزادی کی قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع ہے، وہیں راہل گاندھی کی تقریب میں غیر حاضری نے ایک بار پھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی لفظی جنگ کو ہوا دے دی ہے۔