15 اگست 1947 یہ وہ تاریخ ہے جس نے ہندوستان کی تقدیر بدل دی۔ آزادی کے وقت ملک غربت، کمزور صنعت اور محدود وسائل جیسے بڑے مسائل سے دوچار تھا۔ لیکن 79 برس کے سفر میں ہندوستان نے معیشت، تعلیم، صنعت، ٹیکنالوجی اور عالمی سفارت کاری سمیت کئی شعبوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ آزادی کے وقت کا ہندوستان آج کہاں کھڑا ہے۔
1. معیشت: محدود وسائل سے کھربوں ڈالر کی معیشت تک
آزادی کے وقت ہندوستان کی معیشت انتہائی محدود تھی اور عالمی معیشت میں اس کا حصہ بہت کم رہ گیا تھا۔ آج ہندوستان کی معیشت کا حجم کئی ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور ملک دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے۔ یہ تبدیلی صرف اعداد و شمار کی کہانی نہیں بلکہ زراعت، صنعت، خدمات، ٹیکنالوجی اور کاروباری شعبے میں کئی دہائیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔
2. عام آدمی کی آمدنی میں بڑا اضافہ
1947 میں ہندوستانی شہری کی اوسط آمدنی انتہائی کم تھی۔ غربت بڑے پیمانے پر موجود تھی اور کروڑوں افراد بنیادی ضروریات کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرتے تھے۔ آج فی کس آمدنی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ متوسط طبقہ پھیل رہا ہے، شہروں میں روزگار کے مواقع بڑھے ہیں اور صارفین کی قوتِ خرید میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، ترقی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا معاشی ترقی کا فائدہ سماج کے ہر طبقے تک یکساں طور پر پہنچ رہا ہے؟
3. زرمبادلہ Foreign exchange: بحران سے مضبوط ذخائر تک
ہندوستان کے لیے 1991 کا معاشی بحران ایک انتہائی مشکل دور تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے تھے اور ملک کو اپنی درآمدات جاری رکھنے کے لیے بھی شدید دباؤ کا سامنا تھا۔آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔ ہندوستان کے پاس سیکڑوں ارب ڈالر کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں، جو عالمی معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں ملک کو ایک اہم حفاظتی حصار فراہم کرتے ہیں۔ یہ تبدیلی ہندوستانی معیشت کی مضبوطی کی بڑی علامت سمجھی جاتی ہے۔
4. چرخے سے طیاروں تک
آزادی کے وقت ہندوستان صنعتی اور تکنیکی اعتبار سے بڑی حد تک بیرونی دنیا پر انحصار کرتا تھا۔ آج ہندوستان نہ صرف گاڑیاں، موبائل فون اور الیکٹرانک مصنوعات تیار کر رہا ہے بلکہ دفاعی سازوسامان اور طیارہ سازی کے شعبے میں بھی اپنی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔ ہندوستان کا ایوی ایشن سیکٹر بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نئے ہوائی اڈے بن رہے ہیں، فضائی مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ملکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ یعنی سفر چرخے سے جدید طیارہ سازی تک پہنچ چکا ہے۔
5. دنیا میں ہندوستان کا بدلتا کردار
آزادی کے بعد ہندوستان نے سرد جنگ کے دور میں عدم وابستگی کی پالیسی اپنائی۔ اس وقت ملک کا بنیادی مقصد اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا تحفظ تھا۔ آج ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو اکثر ملٹی الائنمنٹ کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ ہندوستان بیک وقت امریکہ، روس، یورپی ممالک، اسرائیل اور خلیجی و دیگر ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات برقرار رکھتا ہے۔ آج ہندوستان عالمی سطح پر محض ایک تماشائی نہیں بلکہ کئی اہم معاملات میں ایک مؤثر آواز بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
79 برس کا سفر، کامیابی بھی، سوال بھی
1947 سے 2026 تک کا ہندوستان یقیناً بہت بدل چکا ہے۔ معیشت بڑھی، ٹیکنالوجی آگے بڑھی، زرمبادلہ (Foreign exchange) کے ذخائر مضبوط ہوئے اور عالمی سطح پر ملک کا اثر و رسوخ بڑھا۔ لیکن ترقی کا اصل پیمانہ صرف GDP یا بڑے منصوبے نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر بچے کو اچھی تعلیم، ہر نوجوان کو روزگار، ہر خاندان کو صحت اور ہر شہری کو باعزت زندگی مل رہی ہے؟ ہندوستان کا سفر یقیناً شاندار ہے، لیکن وکست بھارت کا خواب اسی وقت مکمل ہوگا جب ترقی کا فائدہ ملک کے آخری فرد تک پہنچے گا۔