• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • چار دن کی لڑکی کو لاکھوں روپئے میں فروخت کرنے کی کوشش کو کیسے پولیس نے بنایا ناکام؟

چار دن کی لڑکی کو لاکھوں روپئے میں فروخت کرنے کی کوشش کو کیسے پولیس نے بنایا ناکام؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 01, 2026 IST

چار دن کی لڑکی کو لاکھوں روپئے میں فروخت کرنے کی کوشش کو کیسے پولیس نے بنایا ناکام؟
 حیدرآباد میں پولیس نے ایک چار دن کی بچی کو مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے میں فروخت ہونے سے ٹھیک پہلے بچا لیا گیا۔حیدراباد کے علاقے بالاپور پولیس نے، ایک سماجی کارکن کی مدد سے، بچوں کی اسمگلنگ کی مشتبہ کوشش کو ناکام بنایا اور ایک خاتون کو بروقت گرفتار کر لیا۔

 ایک خاتون گرفتار

ملزمہ جس کی شناخت وحیدہ خاتون کے طور پر کی گئی ہے، جو چندرائن گٹہ کی ساکن ہے،  وحیدہ نے مبینہ طور پر ایک  درمیانی   فرد کے ذریعہ ممکنہ خریدار سے رجوع کرنے کے بعد نومولود کو فروخت کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ معاملہ بچوں کی اسمگلنگ کی ایک مثال ہے اور اس میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کے لیے تفصیلی تفتیش شروع کر دی ہے۔

مبینہ طورپر6 لاکھ روپےکی پیشکش کی

پولیس کے مطابق وحیدہ خاتون نے مبینہ طور پر بارکس میں پیلی درگاہ کے قریب مہر النسا سے رابطہ کیا اور ابتدائی طور پر چار دن کی بچی کو 6 لاکھ روپے میں فروخت کرنے کی پیشکش کی۔ قیمت کو بعد میں 5 لاکھ روپئے تک راضی کر لیا اور لین دین مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

اور پھر ڈیل بدل گئی، پولیس نے جال بچھایا

پولیس نے کہا کہ مبینہ سودا ابتدائی طور پرشاہین نگرمیں ہونا تھا اس سے پہلے پہاڑی شریف میں جے جے آر فنکشن ہال کے آس پاس منتقل کیا گیا۔مصدقہ اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے، سماجی کارکن صفیہ ماہی نے بالاپور پولیس کو آگاہ کیا ،اور جال بچھانے میں ان کی مدد کی۔ جیسے ہی ملزمہ مبینہ طور پر لین دین مکمل کرنے پہنچی ، پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے نومولود کو بحفاظت بچایا اور وحیدہ خاتون کو موقع پر ہی گرفتارکرلیا۔

ماں کو ریسکیو کے دن ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا

تفتیش کاروں نے بتایا کہ گولکنڈہ کی رہنے والی بچی کی ماں نے منگل کو بچی کو جنم دیا تھا اور جس دن بچاؤ آپریشن کیا گیا تھا اسی دن اسے ملک پیٹ کے ایک اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا تھا۔ان حالات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جن میں شیر خوار کو مبینہ طور پر فروخت کے لیے رکھا گیا تھا۔

دیگر مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے تفتیش جاری

بالاپورپولیس نے ایک کیس درج کر لیا ہے اور اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا بچوں کی اسمگلنگ کا ایک بڑا نیٹ ورک یا اضافی بیچوان اس کوشش میں ملوث تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے آگے بڑھتے ہوئے مزید گرفتاریوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔