تلنگانہ کے وزیر اقلیتی بہبودا ور انڈین کرکٹ ٹیم کےسابق کپتان محمد اظہر الدین نے کہا کہ پیشہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور اس پیشے سے وابستہ صحافی حضرات سماج کے معزز اور قابل احترام شخصیات ہوتی ہیں صحافیوں کی میں ہمیشہ ہی بہت عزت اور احترام کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا جس طرح کرکٹ کے میدان میں، میں نے نمایاں مظاہرہ کیا ہے اسی طرح عوامی خدمت بھی بہتر انداز میں انجام دینے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار اظہر الدین نے تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹ فیڈریشن( ٹی یو ڈبلیو جے ایف) کے دسویں سالانہ ایوارڈ فنکشن سے میڈیا اکیڈمی آڈیٹوریم واقع نام پلی حیدرآباد میں کیا ۔
سرکاری دفاترمیں اردو سائن بورڈ کو یقینی بنایا جائےگا
اردو زبان سے متعلق جو سرکاری کمیاں پائی جاتی ہیں وہ وزیراعلی سے نمائندگی کرتے ہوئے پوری کی جائیں گی انہوں نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ جہاں جہاں سرکاری دفاتر واقع ہیں وہاں پر اردو میں بھی سائن بورڈ کو یقینی بنایا جائے گا ۔ محمد اظہر الدین نےمزید کہا کہ جب بھی کوئی تعمیری تنقید ہوتی ہے انہیں بہت خوشی ہوتی ہے جب تک تعمیری تنقید نہ ہو ہم بہتر انداز میں خدمات انجام نہیں دے سکتے انہوں نے ٹی یو ڈبلیو جے ایف کے صدر نشین ایم اے ماجد اور جنرل سیکرٹری سید غوث محی الدین کی صحافیوں کے لیے ہر وقت نمائندگیوں اور خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور فیڈریشن کہ تمام ذمہ داروں کو عظیم الشان پروگرام منعقد کرنے پر مبارک باد دی۔ اور ساتھ ہی ایوارڈ یافتہ صحافیوں کو مبارکباد پیش کی۔
تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹ فیڈریشن کے ایوارڈ یافتگان
محمد اظہر الدین اورمشیر حکومت تلنگانہ محمد علی شبیر کے ہاتھوں نوید بلال روزنامہ اعتماد کے علاوہ حافظ ایم قیوم میدک' امتیاز خان سنگا ریڈی' افضل خان نظام آباد ' اعجاز احمد خان نرمل' عبدالاحد صدیقی محبوب نگر، محترمہ عائشہ بتول حیدرآباد کو توصیف نامہ اور مومنٹو پیش کرتے ہوئے شال پوشی کی اور 10 ہزار روپے پر مشتمل چیک بھی دیا گیا۔
علاوہ ازیں عزیز احمد جوائنٹ ایڈیٹر روزنامہ اعتماد، عمر دراز خان ایڈیٹر رہنمائے دکن، ڈاکٹر فاضل حسین پرویز چیف ایڈیٹر ہفت روزہ گواہ ، امر دیولا پلی اور مسکین احمد کو تہنیت پیش کی گئی اور ان اصحاب کی خدمات کا اعتراف کیا گیا سینیئر جرنلسٹ عثمان رشید نےمحمد اظہرالدین اور محمد علی شبیر کی گل پوشی کی۔
محمدعلی شبیر کا اردو صحافیوں کو مشورہ
حکومت تلنگانہ کے مشیر و سینیئر کانگریسی لیڈرمحمد علی شبیر نے کہا کہ آزادی سے پہلے حیدرآباد دکن کی بین الاقوامی شہرت یافتہ عثمانیہ یونیورسٹی کا ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے کانگریس قائد و سابق وزیراعلیٰ چنا ریڈی اور دیگر معززین نے اردو سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ اردو کے ساتھ بعض نا انصافیاں ہوتی ہیں لیکن اس کے لیے اردو والوں کو چاہیے کہ وہ متعلقہ حکام سے تحریری نمائندگی کریں انہوں نے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ پیشہ وار انداز میں اپنی خدمات انجام دیں اور سماج کے ہر عزت دار شخص کی عزت کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں ہر شخص کا دلی طور پر استقبال فرمایا کرتے تھے۔
پی آر سی اور ایف آر سی کی سہولت
انہوں نے ایس آئی آر کی مدت میں توسیع کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ وزیراعلی ریونت ریڈی نے راشن کارڈ گیرندوں کو مستقل رہائشی صداقت نامہ جاری کرنے کے احکام جاری کرتے ہوئے عوام کو ایک بہت بڑی سہولت فراہم کی ہے۔
شادی میں وہی نام لکھائیں جو سرٹیفکیٹس میں ہے
انہوں نے عوام کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ شادی کے وقت بعض لوگ دلہن کا اصل نام تبدیل کرتے ہوئے نکاح نامے میں اپنی پسند کا نام لکھوا دیتے ہیں جبکہ دلہن کے تمام سرٹیفکیٹس اور آدھار کارڈ پر اس کا اصل نام موجود ہوتا ہے عین نکاح کے وقت دلہن کا نام تبدیل کر دینے کے عمل کے باعث بعد میں کافی پریشانیاں اٹھانی پڑتی ہیں انہوں نے مشورہ دیا کہ لڑکی کا جو نام سرٹیفیکیٹ اور آدھار کارڈ میں ہوتا ہے نکاح نامے میں بھی وہی نام لکھوائیں ۔
اردو سے نا انصافی پربیان بازی کےبجائے انصاف کیلئے عملی اقدام کی ضرورت
انہوں نے اردو کے بہی خواہوں سے خواہش کی کہ وہ جہاں کہیں بھی اردو سے نا انصافی ہوتی ہے صرف اخبارات میں بیان بازی کرنے کے بجائے عملی طور پر متعلقہ عہدیداروں سے رابطہ کریں اور اگر عہدیدار عوام کی دی ہوئی درخواستوں پر عمل نہیں کرتے ہیں تو پھر حکومت ان کا مواخذہ بھی کرتی ہے۔ محمد علی شبیر نے اردو صحافیوں کو کسی بھی نا انصافی پر حکمراں طبقہ سے سوال کرنے کی حوصلہ افزائی کی ۔
مْحب اردو امر دیولا پلی
امر دیولا پلی نے کہا کہ وہ اردو زبان سے بے حد محبت اور شغف رکھتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ان کے والد بہترین اردو داں رہے وہ غالب کی غزلیں پڑھا کرتے تھے انہوں نے ایوارڈ یافتگان کو اپنی جانب سے دلی مبارکباد پیش کی ۔
اردو زبان سے مکمل انصاف نہیں ہو رہا ہے:مسکین
سید مسکین احمد نے کہا کہ اردو زبان سے مکمل انصاف نہیں ہو رہا ہے انہوں نے حکومت بالخصوص محمد علی شبیر اور جناب محمد اظہرالدین سے کہا کہ تمام سرکاری بسوں پر مقامات کے نام اردو میں بھی تحریر کرنے کے لیے متعلقہ عہد یداروں کو اور کلکٹرس کو توجہ دلائی جائے۔
ہم قلم کے مزدوروں کے لیے بے لوث جدوجہد کرتے ہیں
ابتدا میں صدر فیڈریشن ایم اے ماجد نے محمد اظہر الدین وزیر اقلیتی بہبود ،محمد علی شبیر مشیر حکومت تلنگانہ اور فہیم قریشی صدر نشین ٹمریز کا خیر مقدم کیا اور فیڈریشن کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ فیڈریشن کا مقصد یہ ہے کہ اردو صحافیوں کی ہر ممکن مدد کی جائے اور صحافیوں کی دلی آواز کو حکومت تک پہنچایا جائے انہوں نے کہا کہ کس بھی حکومت کو گھمنڈ سے باز رہنا چاہیے اس سلسلے میں انہوں نے دہلی میں کاکروچ پارٹی کے ہوئے حالیہ احتجاج کا بھی تذکرہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم قلم کے مزدوروں کے لیے بے لوث جدوجہد کرتے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صحافیوں کے لیے ہماری چھوٹی سی خدمت ہے انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کا بنیادی مقصد ایک یہ بھی ہے کہ اردو والوں کوآپس میں جوڑے رکھنا ہے انہوں نے بتایا کہ اردو بولنے والوں کے ساتھ شمال میں تعصب برتا جا رہا ہے۔
شفاف طریقہ سے صحافیوں کا ایوارڈ کیلئے انتخاب
انہوں نے اردو کے صحافیوں کو ایوارڈ دیے جانے سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے انتخاب کے سلسلے میں باضابطہ ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے جو شفاف انداز میں صحافیوں کا ایوارڈ کے لیے انتخاب کرتی ہے انہوں نے پریس اکیڈمی کے ذمہ داروں کا بھی شکریہ ادا کیا کہ پریس اکیڈمی نے عابد علی خاں مرحوم بانی ایڈیٹر روزنامہ سیاست اور سینیئر صحافی نسیم عارفی مرحوم کے نام سے مونوگرافی شائع کی۔ جلسے کی کاروائی محترمہ ساجدہ بیگم عرف ثنا نے چلائی۔ جنرل سیکرٹری سیدغو ث محی الدین کے علاوہ فیڈریشن کے ذمہ داران ایم کے فیصل، شیخ خلیل فرہاد ، محمد عبدالمحسن، سید واجد حسینی، لئیق الدین اور دوسروں نے انتظامات میں حصہ لیا۔
فیڈریشن کے نائب صدر سید احمد جیلانی
فیڈریشن کے نائب صدراور سید احمد جیلانی نے اردو زبان اور اردو صحافت کے موجودہ حالات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اردو کسی مخصوص فرقے یا طبقے کی زبان نہیں ہے غیر مسلم حضرات نے بہترین انداز میں اردو زبان کی بیاری کی ہے جسے ہم فراموش نہیں کر سکتے ۔
ممتاز صحافیوں کی شرکت
اس موقع پر ممتاز صحافی و معززین میں کے این واصف ، پروفیسر مصطفی علی سروری ،شہاب الدین ہاشمی، شوکت علی خان یوسف زئی، شجیع اللہ شجاعت، محمد طاہر رومانی، باسط محی الدین قادری ابو العلا ئی ،سید منصور علی، محمد مطہر الدین، اسد علی، سید غلام ربانی، افتخار علی واجد، محمد حسام الدین ریاض، سجاد الحسنین، محمد عمران حسین امامی، شجاعت علی صوفی، اعظم علی خان، وحید گلشن، فہیم الدین، رفیق نوری، محمد فاروق، سید ظہور الدین ،محمد عبدالوسیم ،انیس فاطمہ ،اسماء بیگم،سلمہ جہاں، آفرین شمیم اور فرحین سلطانہ کے علاوہ شہر کے اردو اخبارات کے صحافیوں کے الکٹرانک میڈیا کے نمائندوں علاوہ اضلاع کے صحافیوں کی بڑی تعداد شریک رہی۔ اجلاس کا آغاز محمد امجد علی کی تلاوتکلام پاک سے ہوا۔ شیخ رفیع الدین آصف نے حمد و نعت پیش کی۔ آخر میں عبدالمقتدر شرفی نے دعا کی۔