تلنگانہ کے وزیراعلی ریونت ریڈی نے حیدرآباد کے۔ایم سی آرایچ آرڈی۔ میں فن لینڈ اور جرمنی کا دورہ سے واپس آئے اساتذہ کے ایک گروپ سے خطاب کیا۔ اس موقع پر وز یر اعلی نے کہا کہ ریاستی حکومت تعلیم کے شعبہ میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی کوشش کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا سے مقابلہ کرنے کے لیے تعلیم کے معیار کو بہتر کیا جانا چاہیے۔ یہ فن لینڈ اور جرمنی میں اپنائی گئی پالیسیوں کو جاننا نہیں بلکہ ان پرعمل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگلے پانچ سالوں میں تعلیمی نظام کو مکمل طور پر بدل دیں گے۔ اساتذہ پر زور دیا کہ وہ ہمارے طلباء کے مستقبل کے لیے فن لینڈ کے تجربات سے بھرپور استفادہ کریں۔
اساتذہ اپنے مسائل مجھ پر چھوڑ دیں
ریونت نے کہا کہ ان کے پاس اساتذہ یونین کے لیڈروں سے صرف ایک بات ہے۔ "اپنے مسائل مجھ پر چھوڑ دیں۔ میں آپ کے کہنے سے پہلے ہی حل کر دوں گا۔ میں نے آپ کی دہلیز پر پروموشنز اور ٹرانسفرز بھی بھیج دی ہیں۔ آپ کےمسائل کی ذمہ داری میری ہے۔ انہوں نےاساتذہ کو مشورہ دیا کہ وہ طلباء کے مسائل کے لیے حکومت سے لڑلیں " انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں۔
سال 2034 تک سی ایم
ریونت ریڈی نے تبصرہ کیا کہ وہ 2034 تک چیف منسٹر رہیں گے، انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک اساتذہ کے مسائل کو حل کرنے کی پوری ذمہ داری لیں گے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ صرف 55 دنوں میں 11000 اساتذہ کی تقرری کی گئی جو کہ ایک بے مثال کارنامہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ماضی میں کبھی ایسی تقرریاں ہوئی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت اساتذہ کی ہے اسی لیے ان کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے رہی ہے۔
تلنگانہ کا معیار تعلیم مثالی ہو
ریونت نے تلنگانہ کے محکمہ تعلیم کو اس سطح پر لے جانے پر زور دیا جہاں دنیا اسے اگلے پانچ سالوں میں ایک مثالی کے طور پر دیکھتی ہے۔ انہوں نے اساتذہ یونینوں سے کہا کہ وہ عہد کریں اور پانچ سالہ منصوبہ کے خطوط پر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کوششیں کی جائیں تو شعبہ تعلیم میں انقلابی تبدیلیاں آئیں گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ تلنگانہ کو تعلیم اور طبی شعبوں میں ملک کی قیادت کیوں نہیں کرنی چاہئے۔
یونین کےمسائل کےلئے راست بات چیت
وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ اب سے ہر چھ ماہ میں ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا اور اساتذہ یونین کے رہنماؤں سے براہ راست بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے باقاعدہ اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ملازمین کی تنخواہیں پہلے دن مقررہ وقت پر ادا نہیں کی جاتی تھیں لیکن اب بغیر پوچھے ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آؤٹ سورسنگ ملازمین کی تنخواہیں بھی اسی دن ادا کی جارہی ہیں۔