انگلینڈ نے پانچ میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے تیسرے مقابلے میں بھارت کو 125 رنز کے بھاری فرق سے شکست دے کر سیریز میں 2-0 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر لی۔ یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں رنز کے اعتبار سے بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی شکست بھی بن گئی۔
میچ میں انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 201 رنز کا مضبوط مجموعہ اسکور کیا۔ انگلش بلے بازوں نے ابتدا ہی سے جارحانہ انداز اپنایا اور بھارتی بولرز کو مسلسل دباؤ میں رکھا، جس کے نتیجے میں ٹیم نے 200 سے زائد رنز کا بڑا ہدف کھڑا کیا۔
جواب میں بھارتی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی۔ پوری ٹیم صرف 11.4 اوورز میں 76 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ بھارتی اننگز کے دوران صرف چار بلے باز ہی دوہرے ہندسے تک پہنچ سکے، جبکہ کوئی بھی بلے باز 13 رنز سے زیادہ اسکور نہ کر سکا۔ انگلینڈ کے بولرز نے شاندار نظم و ضبط کے ساتھ گیند بازی کرتے ہوئے بھارتی بیٹنگ کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔
125 رنز کے فرق سے ہونے والی یہ شکست ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بھارت کی سب سے بڑی شکست ہے۔ اس سے قبل بھارت کی بدترین شکست 2019 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ویلنگٹن میں ہوئی تھی، جہاں اسے 80 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ 2026 میں جنوبی افریقہ نے بھی بھارت کو 76 رنز سے ہرایا تھا، لیکن موجودہ شکست نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔
یہ سیریز بھارتی ٹیم کے نئے کپتان شریاس ایئر کے لیے بھی انتہائی مایوس کن ثابت ہو رہی ہے۔ ان کی قیادت میں بھارت اب تک ایک بھی ٹی ٹوئنٹی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس سے قبل آئرلینڈ نے دو میچوں کی سیریز میں بھارت کو 2-0 سے شکست دی تھی، جبکہ اب انگلینڈ نے بھی مسلسل دو فتوحات کے بعد سیریز اپنے نام کرنے کی مضبوط پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
یاد رہے کہ پانچ میچوں کی اس سیریز کا پہلا مقابلہ بارش کی وجہ سے بے نتیجہ ختم ہوا تھا۔ اس کے بعد انگلینڈ نے مسلسل دو میچ جیت کر سیریز میں واضح برتری قائم کر لی ہے۔
اب دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا چوتھا ٹی ٹوئنٹی میچ کل کھیلا جائے گا، جہاں بھارت اپنی ساکھ بچانے اور پہلی فتح حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، جبکہ انگلینڈ کلین سوئپ کی جانب ایک اور قدم بڑھانے کے ارادے سے میدان میں اترے گا۔