Wednesday, July 08, 2026 | 21 محرم 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • آبنائے ہرمز میں حملوں کے بعد امریکہ کی ایران پر جوابی کاروائی، کشیدگی میں اضافہ

آبنائے ہرمز میں حملوں کے بعد امریکہ کی ایران پر جوابی کاروائی، کشیدگی میں اضافہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 08, 2026 IST

آبنائے ہرمز میں حملوں کے بعد امریکہ کی ایران پر جوابی کاروائی، کشیدگی میں اضافہ
آبنائے ہرمزمیں تین تجارتی بحری جہازوں پرحملوں کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کاروائی شروع کر دی ہے۔ بدھ کی صبح امریکی فوج نے ایران کے مختلف فوجی اور دفاعی مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری امن مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کاروائی تین تجارتی بحری جہازوں پرحملوں کے جواب میں کی گئی۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے عالمی تجارت اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرہ ہوا ہے، اس لیے فوری جواب دینا ضروری تھا۔

امریکی فوج نے کن مقامات کو نشانہ بنایا؟

امریکی فوج کے ایک اہلکار کے مطابق کاروائی کے دوران ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، ہوائی حملوں سے دفاع کرنے والے میزائل، اینٹی شپ کروز میزائل، ڈرون لانچنگ سائٹس اور بندرگاہوں کی بعض تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج کا مؤقف

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔سینٹ کام کے مطابق ایران کی کاروائیاں غیر ضروری، خطرناک اور جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔

ایران میں دھماکوں کی اطلاعات

ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے علاقوں سیرک( Sirik )، قشم( Qeshm) اور بندر عباس(Bandar Abbas)کے قریب کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔بعض مقامی رپورٹس کے مطابق سیرک بندرگاہ کے قریب میزائل حملوں کے بعد متعدد دھماکے ہوئے، ایران نے فوری طور پر نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

یہ کشیدگی کیوں بڑھی؟

یہ پہلا موقع نہیں کہ ایران اور امریکہ  کے درمیان اس نوعیت کی کشیدگی سامنے آئی ہو۔ گزشتہ ماہ بھی دونوں ممالک کے درمیان حملوں اور جوابی کاروائیوں کا سلسلہ دیکھا گیا تھا۔ تازہ کاروائی ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی میں موجود تھے۔

امریکہ نے ایرانی تیل کا لائسنس بھی منسوخ کر دیا

بحری جہازوں پر حملوں کے چند گھنٹوں بعد امریکہ  نے ایران کے تیل کی فروخت سے متعلق ایک اہم لائسنس بھی منسوخ کر دیا۔یہ لائسنس عبوری معاہدے کے تحت جاری کیا گیا تھا، جس کے ذریعے ایران کو محدود پیمانے پر تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ حملوں کے بعد اس لائسنس کو برقرار رکھنا مناسب نہیں تھا۔

عالمی تجارت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے مطابق اپریل کے آخر کے بعد ایک ہی دن میں تجارتی جہازوں پر یہ سب سے  زیادہ حملے ہیں۔اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی تجارت، خام تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں، کیونکہ دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔

امن مذاکرات پر سوالات

امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، لیکن تازہ حملوں نے جاری امن مذاکرات کو مشکل بنا دیا ہے۔اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو جنگ بندی اور مستقل امن معاہدے تک پہنچنا مزید دشوار ہو سکتا ہے، جبکہ پوری دنیا کی نظریں اب دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر لگی ہوئی ہیں۔