بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ (KTR) نے تلنگانہ کی کانگریس حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف ریاست کے کئی اضلاع میں بارش کی شدید کمی ہے اور کسان پانی نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں،گوداوری میں بڑی مقدار میں پانی موجود ہونے کے باوجود اسے استعمال نہیں کیا جا رہا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اس وقت تلنگانہ کے بیشتر علاقوں میں کسان بوائی اور دھان کی فصل شروع نہیں کر پا رہے ہیں کیونکہ بارش معمول سے کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت بروقت اقدامات کرے تو گوداوری کا پانی استعمال کر کے کسانوں کو بڑی مشکل سے بچایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ جب میڈی گڈا بیراج(Medigadda barrage) کے پاس سے اتنی بڑی مقدار میں پانی گزر رہا ہے تو کالیشورم لفٹ ایریگیشن اسکیم کے ذریعے اس پانی کو کھیتوں تک کیوں نہیں پہنچایا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے کنّی پلی پمپ ہاؤس کو فوری طور پر چلایا جانا چاہیے تاکہ کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی مل سکے۔
کے ٹی آر نے کہا کہ اس سال بارش میں کمی اور ایل نینو (El Niño) کے اثرات کےباعث زرعی شعبہ پہلے ہی متاثر ہے۔، لیکن حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے خاموش ہے۔ ان کے مطابق کسانوں کی مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں، مگر حکومت ان کی مدد کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔
انہوں نے وزیرِ اعلیٰ اے ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت سیاسی اختلافات کی وجہ سے کالیشورم لفٹ ایریگیشن اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صرف اس لیے اس منصوبے کو استعمال نہیں کرنا چاہتی کیونکہ یہ آبی پروجکٹ سابق بی آر ایس حکومت کے دور میں بنایا گیا تھا۔
کے ٹی آر نے کہا کہ کالیشورم منصوبہ خاص طور پر ایسے حالات کے لیے تیار کیا گیا تھا، بارش کے پانی کی کمی ہونے پر گوداوری کا پانی استعمال کیا جائے ۔ اس منصوبے کا مقصد یہی تھا کہ اضافی پانی کو محفوظ کر کے خشک علاقوں تک پہنچایا جائے تاکہ کسانوں کو پانی کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر کسانوں کے مفاد میں فوری فیصلے کرے اور گوداوری کے دستیاب پانی کو ضائع ہونے سے بچائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پانی بروقت استعمال نہ کیا گیا تو کسانوں کی فصلیں متاثر ہوں گی اور انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
کے ٹی آر نے تلنگانہ کے کسانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ حکومت سے سوال کریں کہ جب پانی موجود ہے تو اسے زراعت کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی دشمنی کی قیمت کسانوں کو نہیں چکانی چاہیے اور حکومت کو فوری طور پر آبپاشی کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔