Wednesday, July 08, 2026 | 21 محرم 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • معدہ اور آنتوں کی صحت کیوں ضروری ہے؟

معدہ اور آنتوں کی صحت کیوں ضروری ہے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 08, 2026 IST

معدہ اور آنتوں کی صحت کیوں ضروری ہے؟
منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج کامنینی ہاسپٹلس، کنگ کوٹھی، حیدرآباد کے پروفیسر و سربراہ شعبۂ انٹرنل میڈیسن، ڈاکٹر ایس۔ وجے موہن نے "گٹ ہیلتھ (Gut Health) اور نظامِ ہاضمہ" پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
 
ڈاکٹر ایس۔ وجے موہن نے بتایا کہ گٹ ہیلتھ سے مراد معدہ اور آنتوں کی صحت ہے، جو صرف ہاضمے ہی نہیں بلکہ جسم کی قوتِ مدافعت، غذائی اجزاء کے جذب، توانائی اور ذہنی صحت پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ان کے مطابق آج کے دور میں فاسٹ فوڈ، بے ترتیب طرزِ زندگی، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کے باعث معدے اور آنتوں کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ تیزابیت، گیس، پیٹ پھولنا اور قبض جیسی شکایات اکثر غیر متوازن غذا، کم پانی پینے، مرچ مصالحے والی غذاؤں اور مسلسل ذہنی دباؤ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر قبض، پیٹ میں مسلسل درد، خون آنا، وزن میں غیر معمولی کمی یا بار بار بدہضمی کی شکایت ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
 
ڈاکٹر وجے موہن نے آئی بی ایس (Irritable Bowel Syndrome) اور آئی بی ڈی (Inflammatory Bowel Disease) کے درمیان فرق بھی واضح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی بی ایس ایک فنکشنل مسئلہ ہے، جبکہ آئی بی ڈی آنتوں کی سوزش سے متعلق ایک سنجیدہ بیماری ہے، جس کے لیے بروقت تشخیص اور علاج ضروری ہے۔
 
انہوں نے گٹ مائیکرو بایوم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا ہاضمہ، قوتِ مدافعت اور مجموعی صحت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے فائبر سے بھرپور غذا، دہی، پھل، سبزیاں، ثابت اناج اور مناسب مقدار میں پانی کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے پروبائیوٹکس اور پری بائیوٹکس کے استعمال کو بھی ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق فائدہ مند قرار دیا۔
 
ڈاکٹر موہن کے مطابق بعض غذائیں، خاص طور پر زیادہ تلی ہوئی اشیا، پراسیسڈ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، ضرورت سے زیادہ چائے یا کافی اور الکحل بعض افراد میں ہاضمے کے مسائل کو بڑھا سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوڈ الرجی اور فوڈ اِن ٹالرینس ایک جیسی نہیں ہوتیں، اس لیے بار بار تکلیف ہونے پر مناسب ٹیسٹ اور طبی معائنہ ضروری ہے۔
 
پروگرام کے اختتام پر انہوں نے ناظرین کو مشورہ دیا کہ متوازن غذا، روزانہ ورزش، مناسب نیند، پانی کا وافر استعمال اور ذہنی دباؤ پر قابو پانا صحت مند نظامِ ہاضمہ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معمولی علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت طبی مشورہ لینے سے کئی پیچیدہ بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔
 قارئین آپ ڈاکٹر ایس وجے موہن  کی مکمل بات چیت یہاں دیکھ سکتےہیں۔ اور ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پرمختلف امراض پرماہرین کےانٹر ویوز بھی دیکھ سکتےہیں۔