مغربی بنگال کے ضلع جنوبی 24 پرگنہ کے علاقہ باروئی پورمیں نابالغ لڑکی، کی عصمت دری اورقتل کے مرکزی ملزم پر بھاس منڈل پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح اس وقت پیش آیا جب پولیس (Crime Scene Reconstruction)ملزم کو جائے واردات پر لے گئی تاکہ جرم کی تفصیلات کی دوبارہ جانچ کی جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پر بھاس مونڈل ان تین افراد میں شامل تھا جنہیں بچی کی عصمت دری اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ چند روز قبل بچی کی لاش باروئی پور کے علاقے میں ایک تالاب سے بوری میں بند حالت میں ملی تھی، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا۔
پولیس مقابلہ کیسے ہوا؟
پولیس کے مطابق منگل کی رات تقریباً 12:45 بجے باروئی پور پولیس کی ایک ٹیم ملزم کو سرجیہ پور لے گئی، تاکہ وہ جائے وقوع پر جرم کی مکمل ترتیب دوبارہ معلوم کر سکے۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ اسی دوران پربھاس مونڈل نے ایک پولیس اہلکار کی سرکاری رائفل چھین لی، پولیس پر فائرنگ کی اور وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ جواب میں پولیس نے بھی فائرنگ کی، جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ملزم کو فوری طور پر باروئی پور اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
بچی کی لاش ملنے کے بعد احتجاج
متاثرہ بچی لاپتہ ہونے کے بعد 5 جولائی کو اس کی لاش ایک تالاب سے برآمد ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں شدید غصہ پھیل گیا۔مظاہرین نے باروئی پور-جوئے نگر روڈ بند کر دی، ٹائر جلائے، پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔
بے گناہ شخص ہجوم کے تشدد کا شکار
احتجاج کے دوران ایک شخص اندراجیت مونڈل کو لوگوں نے اس جرم میں ملوث سمجھ کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کی موت ہو گئی۔بعد میں پولیس نے واضح کیا کہ اندراجیت مونڈل اس قتل یا عصمت دری کے کیس میں ملوث نہیں تھا۔پولیس نے اس ہجومی تشدد (Mob Lynching) کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل
پولیس نے اس پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی ہے، جو قتل، عصمت دری اور ہجومی تشدد تینوں معاملات کی الگ الگ جانچ کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے 72 گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لی
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری(Suvendu Adhikari ) نے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سے 72 گھنٹے کے اندر مکمل رپورٹ طلب کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات میں پولیس کی کسی بھی قسم کی لاپرواہی ثابت ہوئی تو ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندان سے ملاقات بھی کی اور انہیں یقین دلایا کہ انصاف ضرور دلایا جائے گا۔
تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی
پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، پولیس کی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کرنے اور ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچانے والے تقریباً 200 افراد کی شناخت کر لی گئی ہے، جنہیں جلد گرفتار کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اندراجیت مونڈل کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ چلایا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ سرجیہ پور میں جلد ایک نئی پولیس چوکی قائم کی جائے گی، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد دینے کا فیصلہ بھی ایک ہفتے کے اندر کیا جائے گا۔ پولیس اور ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سنگین معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور تمام ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔