برکس سربراہی اجلاس کے دوران وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری کے اشارے مل رہے ہیں۔ وزارت دفاع کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال شمالی سرحد پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) کے قریب چینی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کی تعیناتی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ وزارت دفاع کی 2025-26 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ LAC سے متصل چینی علاقوں اور روایتی تربیتی مراکز میں اس وقت 10 کمبائنڈ آرمز بریگیڈز تعینات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں فوجی دستوں کے انخلا کے عمل کے بعد سرحد پر چینی فوج کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت اور چین کے درمیان 2024 میں فوجی دستوں کے ڈس انگیجمنٹ کے بعد اب سرحد پر ڈی ایسکیلیشن کا مرحلہ بھی آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم بھارتی فوج کی تیسری اہم شرط یعنی ڈی انڈکشن ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ ڈی انڈکشن سے مراد فوجیوں کو سرحدی علاقوں سے پیچھے ہٹا کر اپنی مستقل بیرکوں اور فوجی مراکز میں واپس بھیجنا ہے۔ بھارتی موقف کے مطابق LAC پر مکمل معمول کی صورتحال اسی وقت بحال ہوسکتی ہے جب سرحد پر تعینات فوجیوں کو بڑی تعداد میں پیچھے ہٹایا جائے۔
دوسری جانب اروناچل پردیش کے اپر سبانسری علاقے میں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان گزشتہ ایک ماہ سے مبینہ تعطل جاری ہے۔ اسے ختم کرنے کے لیے کور کمانڈر سطح پر مذاکرات کے دو دور بھی ہوچکے ہیں، تاہم صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی ہے۔ وزارت دفاع نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مشرقی لداخ سے اروناچل پردیش تک LAC کے تمام سیکٹرز میں بھارتی فوج مضبوط اور موزوں پوزیشن میں تعینات ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
ایک چینی کمبائنڈ آرمز بریگیڈ میں تقریباً 14 سے 15 ہزار فوجی ہوسکتے ہیں۔ اس حساب سے LAC سے متصل علاقوں میں موجود 10 بریگیڈز میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کی گنجائش کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ ان فوجی فارمیشنز میں پیادہ فوج کے ساتھ بکتر بند گاڑیاں، توپ خانہ، فضائی دفاعی نظام اور ڈرون سے متعلق یونٹس بھی شامل ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق LAC کے قریب چینی فوج کی بڑی تعداد روایتی تربیتی علاقوں میں بھی موجود رہتی ہے، جہاں سے ضرورت پڑنے پر فوجیوں کو نسبتاً کم وقت میں سرحد کی جانب منتقل کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج سرحدی علاقوں سے مکمل ڈی انڈکشن کو اہم قرار دے رہی ہے۔
جون 2020 کے گلوان وادی تصادم کے بعد بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے LAC پر بڑی تعداد میں فوجی اور فوجی سازوسامان تعینات کیا۔ وزارت دفاع کی حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران چینی فوج کی تعیناتی میں کمی ضرور آئی ہے، لیکن سرحد پر مکمل معمول کی صورتحال بحال ہونا ابھی باقی ہے۔وزیراعظم نریندر مودی اور شی جن پنگ کی حالیہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اختلافات کو تنازعات میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے احترام، حساسیت اور باہمی مفادات کے اصولوں کو اہم قرار دیا گیا۔
وزارت دفاع کی سالانہ رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ سیاسی، سفارتی اور عسکری سطح پر مسلسل رابطوں سے شمالی سرحد کی صورتحال پر مثبت اثر پڑا ہے۔ رپورٹ میں WMCC، خصوصی نمائندوں کی سطح کی بات چیت، کور کمانڈر مذاکرات اور بارڈر پرسنل میٹنگز جیسے طریقہ کار کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ LAC سے متعلق معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری ہے۔یوں سرحد پر فوجی تعیناتی میں کمی اور اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں کو بھارت چین تعلقات میں کشیدگی کم ہونے کے اہم اشاروں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم مکمل معمول کی صورتحال کے لیے مزید فوجی انخلا اور باہمی اعتماد کی بحالی اب بھی اہم چیلنج ہے