Thursday, March 05, 2026 | 15 رمضان 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر انڈیا نے کیا تعزیت کا اظہار

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر انڈیا نے کیا تعزیت کا اظہار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Mar 05, 2026 IST

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر انڈیا نے کیا تعزیت کا اظہار
ہندوستان نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ ایرانی رہنما خامنہ ای پانچ روز قبل امریکی اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے سکریٹری وکرم مصری نے نئی دہلی میں قائم ایرانی سفارت خانے کا دورہ کیا اور تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات درج کرتے ہوئے ایرانی قیادت اور عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت اتوار کے روز تہران میں امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے چند گھنٹوں بعد ہوئی تھی۔

 بھارت کےموقف میں محتاط تبدیلی

بھارت کی جانب سے یہ تعزیتی پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی اس واقعے پر اب تک محتاط اور خاموش رویہ اختیار کیے ہوئے تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ حکومت اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق تعزیت کا یہ اقدام بھارت کے موقف میں ایک محتاط لیکن نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

 ویزرخارجہ نے ایرانی ہم منصب سےفون پر کی بات 

دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے کی صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

وزیراعظم مودی نے بھی کیا تشویش کا اظہار

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیشہ ایسے تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔
 
بھارت کا ردعمل بڑی حد تک دیگرعالمی طاقتوں کے موقف کے مطابق رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد بیشتر مغربی ممالک نے اس واقعے پر رسمی تعزیت کا اظہار نہیں کیا، جبکہ روس اور چین ان چند اہم ممالک میں شامل تھے جنہوں نے کھل کر ایران کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

تیل کی ترسیل اور سمندری تجارت میں خلل کےخدشات

ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز امریکی، اسرائیلی اور یورپی ممالک کے جہازوں کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر ان ممالک یا ان کے اتحادیوں کے جہاز اس اہم سمندری گزرگاہ میں نظر آئے تو ان کے خلاف کاروائی کی جا سکتی ہے۔ اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور سمندری تجارت کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

اپوزیشن نے حکومت کو بنایا تھا تنقید کا نشانہ

بھارت میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے ابتدائی مؤقف پر تنقید کی تھی۔ کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے کہا تھا کہ کسی غیر ملکی رہنما کے قتل پر بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کے اصولوں کا واضح دفاع نہ کرنا بھارتی خارجہ پالیسی پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ہمیشہ “واسودھیوا کٹمبکم” یعنی “پوری دنیا ایک خاندان ہے” کے نظریے کی بات کرتا آیا ہے، جو صرف سفارتی نعرہ نہیں بلکہ انصاف، تحمل اور مکالمے کی حقیقی وابستگی کا تقاضا کرتا ہے۔
 
یاد رہے کہ ماضی میں بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 13 فیصد ایران سے حاصل کرتا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھی نمایاں سطح پر تھی۔ تاہم 2018 میں امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کے بعد دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں نمایاں کمی آ گئی تھی۔ موجودہ صورتحال میں ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نہ صرف عالمی سیاست بلکہ توانائی کی منڈیوں اور عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے، جس پر بھارت سمیت دنیا بھر کے ممالک گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔