بھارت کی کھیلوں کی معیشت نے 2025 میں ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ پہلی بار یہ شعبہ 2 ارب ڈالر سے تجاوز کرتے ہوئے 2.13 ارب ڈالر (تقریباً 18,864 کروڑ روپے) تک پہنچ گیا۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.4 فیصد اضافہ ہے، جبکہ صرف چار سال میں اس شعبے کا حجم دوگنا ہونا ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
کمائی میں کرکٹ نے تمام کھیلوں کو پیچھے چھوڑا
تاہم اس حیران کن ترقی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں سب سے بڑا حصہ کرکٹ کا ہے، جس نے دیگر تمام کھیلوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
کرکٹ کی بھرپور بالادستی
رپورٹ کے مطابق، ملک کی مجموعی اسپورٹس آمدنی میں کرکٹ کا حصہ 89 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو 2024 میں 85 فیصد تھا۔ صرف 2025 میں کرکٹ نے 16,704 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی، جو 2024 کی پوری اسپورٹس اکانومی (16,633 کروڑ روپے) سے بھی زیادہ ہے۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ بھارت میں دیگر کھیل ابھی بھی کرکٹ کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔
آمدنی کے ذرائع میں بھی کرکٹ کا راج
معروف عالمی ادارے WPP کی رپورٹ "Sporting Nation: Building a Legacy" کے مطابق،
کھیلوں کی آمدنی تین بڑے ذرائع سے حاصل ہوئی:
میڈیا اشتہارات: 9,571 کروڑ روپے، جس میں 95 فیصد حصہ کرکٹ کا
اسپانسرشپ: 7,943 کروڑ روپے، جس میں کرکٹ کا حصہ 81 فیصد
ایتھلیٹس کی برانڈ اینڈورسمنٹ: 1,350 کروڑ روپے، جس میں 87 فیصد کرکٹرز کو ملا
خاص طور پر Indian Premier League (آئی پی ایل) کی زبردست کامیابی، بھارتی ٹیم کی چیمپئنز ٹرافی جیت، خواتین کے ورلڈ کپ میں کامیابی، اور ویمنز پریمیئر لیگ نے کرکٹ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
قومی کھیل سمیت دیگر کھیلوں کی گرتی ہوئی حالت
جہاں کرکٹ نے 17.9 فیصد ترقی کی، وہیں فٹبال اور کبڈی جیسے دیگر ابھرتے کھیلوں کی آمدنی میں 12.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔ قومی کھیل ہاکی بھی پیچھے رہ گیا۔ اس کے نتیجے میں ان کھیلوں کا مجموعی حصہ صرف 11 فیصد رہ گیا
رپورٹ کے مطابق Indian Super League (آئی ایس ایل) کے التوا اور بڑے عالمی ایونٹس کی عدم موجودگی اس کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔
ماہرین کی رائے
بھارت عالمی کرکٹ کا مرکز
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سی ای او سنجوگ گپتا کے مطابق،"بھارت عالمی کرکٹ کا مرکزی مرکز بن چکا ہے، اور خواتین کرکٹ میں بڑھتی دلچسپی مستقبل میں مزید ترقی کا باعث بنے گی۔"
کھیل ثقافت اور کاروبار کے درمیان ایک مضبوط پل
اسی طرح Vinit Karnik کا کہنا ہے کہ کھیل اب ثقافت اور کاروبار کے درمیان ایک مضبوط پل بن چکے ہیں، جہاں برانڈز محض اسپانسر نہیں بلکہ سرگرم شراکت دار بن رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی کرکٹرز کا غلبہ
سوشل میڈیا پر بھی کرکٹرز کی مقبولیت دیگر کھلاڑیوں سے کہیں زیادہ ہے۔ویراٹ کوہلی اور روہت شرما کی آن لائن موجودگی نیرج چوڑا اور سنیل چھیتری جیسے کھلاڑیوں سے کہیں آگے ہے۔
کرکٹ کی مقبولیت میں اضافہ
یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ بھارت میں کرکٹ کا کوئی متبادل نہیں اور یہ کھیل اسپورٹس اکانومی پر مکمل طور پر حاوی ہے۔ اگر دیگر کھیلوں کو ترقی دینی ہے تو ان کے لیے زیادہ سرمایہ کاری، بہتر میڈیا کوریج اور حکومتی و نجی شعبے کی بھرپور حمایت ناگزیر ہے۔