مغربی ایشیائی ملک ایران میں مظاہروں نے پْرتشدد شکل اختیار کرلی ہے۔ حکومت ہند نے چوکسی اختیار کرلی ہے بھارت نے ایران میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو بحفاظت نکالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ وہاں پھنسے ہندوستانی طلباء کو وطن لایا جائے گا۔ تہران میں ہندوستانی دفتر پہلے ہی ملک کے مختلف حصوں میں ہندوستانی طلباء کے بارے میں معلومات حاصل کررہا ہے۔ پہلا قافلہ کل جمعہ 16 جنوری کی صبح 8 بجے تک تیار ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ حکام نے کہا کہ انخلاء کی تیاریاں جاری ہیں اور طلباء سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے کاغذات تیار رکھیں۔ ایک مسافر مینی فیسٹ تیار کیا جا رہا ہے، اور ہندوستان اور ایران دونوں میں مختلف حکام سے ضروری منظوری لی جا رہی ہے۔
واپسی کوآسان بنانے کی تیاریاں
دریں اثنا، MEA ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی شہریوں کی واپسی کو آسان بنانے کے لئے تیاریاں جاری ہیں جو ہندوستان واپس سفر کرنا چاہتے ہیں۔ ذرائع نے کہا۔"ایران میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر، MEA ہندوستانی شہریوں کی واپسی کو آسان بنانے کے لئے تیاریاں کر رہا ہے جو ہندوستان واپس سفر کرنا چاہتے ہیں،"ایران میں ہندوستانی سفارت خانے نے ملک کے مختلف حصوں میں پھنسے ہندوستانی طلباء کی تفصیلات جمع کرنا شروع کردی ہیں۔ تاہم، ذرائع نے بتایا کہ کئی علاقوں میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ہونے کی وجہ سے اس عمل میں وقت لگ رہا ہے، جس کی وجہ سے رابطہ مشکل ہو گیا ہے۔
ایران میں 10ہزارہندوستانی
ایک اندازے کے مطابق اس وقت 10,000 سے زیادہ ہندوستانی بشمول طلباء ایران میں مقیم ہیں۔ بدھ کے روز، ہندوستان نے ایران میں اپنے تمام شہریوں کو دستیاب ذرائع سے نکلنے اور ملک کا سفر کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ایک ایڈوائزری میں، تہران میں ہندوستانی سفارت خانے نے طلباء، زائرین، کاروباری افراد اور سیاحوں پر زور دیا کہ وہ تجارتی پروازوں یا دیگر دستیاب ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے ایران سے نکل جائیں۔
ایران کے31 صوبوں میں پھیل چکا ہے احتجاج
ایران میں جاری بدامنی کے درمیان ہندوستانی طلباء کی حفاظت اور بہبود کو لے کر خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ایرانی کرنسی ریال کے ریکارڈ کم ترین سطح پر گرنے کے بعد گزشتہ ماہ کے آخر میں مظاہرے شروع ہوئے۔ معاشی مسائل پر ہونے والے مظاہروں کے بعد سے یہ تمام 31 صوبوں میں پھیل چکا ہے، جو سیاسی تبدیلی کے مطالبات میں بدل گیا ہے
انٹر نیٹ خدمات معطل
ایران میں بدامنی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں حکومت نے انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی ہیں۔ فون سروسز بھی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس تناظر میں، حکومت، جو محسوس کرتی ہے کہ ہندوستانی طلباء کا وہاں رہنا مناسب نہیں ہے، انہیں گھر لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے تہران میں ہندوستانی سفارت خانہ وہاں ہندوستانی طلبہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
3,428 افراد ہلاک
گزشتہ سال ایران کی کرنسی ریال کی قدر میں اچانک گراوٹ کشیدگی کا باعث بنی۔ بہت سے لوگوں نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ احتجاج جلد ہی ملک کی 31 ریاستوں میں پھیل گیا۔ فوج نے مظاہرین کو دبانے کے لیے فائرنگ کی اور 3,428 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس ملک میں زیر تعلیم ہندوستانی طلباء کی حفاظت کو لے کر تشویش پائی جاتی ہے۔ اس تناظر میں بھارتی حکومت نے وہاں پھنسے ہوئے افراد کو واپس لانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔