ہندوستان نے نیپال میں سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی کی قیادت میں نئی عبوری حکومت کی تشکیل کا خیرمقدم کیا۔ سشیلا کارکی کا تقرر جمعہ کو کیا گیا ۔وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ ہم نیپال میں سشیلا کارکی کی قیادت میں نئی عبوری حکومت کی تشکیل کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ وزارت خارجہ نے کہاکہ ہمیں امید ہے کہ اس سے امن اور استحکام کو فروغ ملے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک قریبی پڑوسی، ایک جمہوری ملک اور ایک طویل مدتی ترقیاتی شراکت دار کے طور پر ہندوستان دونوں ممال کے لوگوں اور ان کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کی حمایت کرتاہے۔ ادھر دوسری جانب نیپال میں نوجوانوں بالخصوص جنرل زیڈ کی قیادت میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد 51 تک پہنچ گئی ہے۔نیپال پولیس کے مرکزی ترجمان اور ڈی آئی جی نے بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد 51 تک پہنچ گئی ہے۔
درمیانی طبقے کے کسان خاندان میں پیدا ہوئیں :
سشیلا کارکی کی پیدائش 7 جون 1952 کو مورنگ ضلع کے بیراٹ نگر کے شنکر پور میں ایک درمیانی طبقے کے کسان خاندان میں ہوئی تھی۔ وہ اپنے والدین کے سات بھائی بہنوں میں سب سے بڑی بیٹی ہیں۔ 1950 کی دہائی کے قدامت پسند سماجی ماحول میں بھی ان کے والدین نے تمام بچوں کی تعلیم پر زور دیا۔ ان کے والد نیپالی کانگریس سے وابستہ تھے۔ اسی دوران وہ بی پی کوئرالہ کے خاندان اور جمہوری تحریک سے منسلک ہو گئیں۔ بعد میں ان کا خاندان کھٹمنڈو منتقل ہو گیا۔
بی ایچ یو سے کیا سیاسیات میں ماسٹرز :
کارکی نے 1972 میں بیراٹ نگر کے مہندر مورنگ کالج سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد 1975 میں وہ تعلیم کے لیے اتر پردیش کے وارانسی آئیں اور بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا۔ انہوں نے 1978 میں نیپال کے تربھون یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ بی ایچ یو میں تعلیم اور جمہوری تحریک کے دوران ان کی ملاقاتیں رہنماؤں سے ہوتی رہیں۔ اسی دوران وہ کانگریس رہنما درگا سبیدی سے ملیں اور بعد میں ان سے شادی کر لی۔
بیراٹ نگر سے شروع کی وکالت، اسسٹنٹ لیکچرر بھی رہیں :
کارکی نے 1979 میں بیراٹ نگر میں وکالت شروع کی۔ اسی دوران وہ چار سال تک دھران میں مہندر ملٹیپل کیمپس میں اسسٹنٹ لیکچرر رہیں۔ انہوں نے 1990 میں پیپلز موومنٹ میں حصہ لیا۔ اس کے بعد 2007 میں وہ کھٹمنڈو کی سپریم کورٹ میں مقرر ہوئیں اور نیپال بار ایسوسی ایشن میں سینئر ایڈووکیٹ بنیں۔ کارکی 2009 میں عارضی جج بنیں، جو دو سال بعد مستقل ہو گئیں۔ جولائی 2016 میں وہ نیپال کی 24ویں اور ملک کی پہلی خاتون چیف جسٹس بنیں۔
کارکی نے کئی قابل ذکر فیصلے دیے :
کارکی نے 2012 میں اس وقت کے وزیر صحت جے پرکاش گپتا کو بدعنوانی کے الزام میں قصوروار ٹھہرایا اور انہیں جیل بھیج دیا، جو ان کی بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے شہری حقوق اور سرکاری املاک کے غلط استعمال کے خلاف ایک اہم فیصلہ دیا۔ انہوں نے خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کو فروغ دیا۔ نیپال بینک کی بے ضابطگیوں، سابق نریش گیانندر کی بیٹی پرورانہ کے جہیز سے متعلق زمین اور سوڈان گھوٹالے کے معاملات میں ان کے فیصلے مشہور تھے۔
نیپال کی پہلی چیف جسٹس، جن کے خلاف مواخذے کی تجویز پیش کی گئی :
چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائرمنٹ میں تقریباً 40 دن باقی تھے جب ان کے خلاف مواخذے کی تجویز پیش کی گئی۔ وہ پہلی جج تھیں جن کے خلاف مواخذے کی تجویز آئی۔ حکمراں کانگریس اور ماؤنواز اراکین پارلیمنٹ نے ان کے خلاف مواخذے کی تجویز پیش کی، جس کا سڑکوں پر بہت زیادہ مخالف ہوا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے ایک عبوری حکم سے مواخذے کی تجویز منسوخ کر دی اور پارلیمنٹ کو بھی تجویز واپس لینا پڑا۔ مواخذے کے بعد کارکی بغیر سماعت کے ریٹائر ہو گئیں۔
شوہر کا نام طیارہ ہائی جیک سے منسلک تھا :
کارکی کے شوہر کا نام نیپال کے طیارہ ہائی جیک کے معاملے سے منسلک (جڑا)تھا، جو 1970 کی دہائی میں ہوا تھا۔ طیارے میں بالی ووڈ اداکارہ مالا سنہا سوار تھیں۔ یہ طیارہ ہائی جیک نیپالی کانگریس نے جمہوری تحریک کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے کیا تھا۔