تلنگانہ حکومت نے پرائمری تعلیم کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ریاست کے اسکولوں میں مصنوعی ذہانت، یعنی اے آئی، پر مبنی تدریسی نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نئے روڈ میپ کے مطابق، تعلیمی سال 2026-27 سے کلاس 3 سے 5 کے طلبہ کو اے آئی کی مدد سے خصوصی لرننگ سیشنز فراہم کیے جائیں گے۔ یہ پروگرام ریاست کے فاؤنڈیشنل لٹریسی اینڈ نیومریسی (FLN) مشن کا حصہ ہوگا۔
حکام کے مطابق اب یہ منصوبہ صرف سرکاری اسکولوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ تمام نجی اسکولوں میں بھی کلاس 1 سے 5 تک کے طلبہ کے لیے FLN پروگرام کو لازمی طور پر نافذ کیا جائے گا، تاکہ ہر بچے کو بنیادی خواندگی اور ریاضی کی مہارت حاصل ہو سکے۔
نئے ٹائم ٹیبل کے تحت طلبہ ہر ہفتے 80 منٹ تک اے آئی سے چلنے والے لرننگ ٹولز کے ذریعے ریاضی، تیلگو اور انگریزی کی مشق کریں گے۔ ہر مضمون کے لیے ہفتے میں 20 منٹ کے دو سیشن رکھے گئے ہیں، جو اسکول کی کمپیوٹر لیب میں اساتذہ کی نگرانی میں منعقد ہوں گے۔
محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ اے آئی اساتذہ کا متبادل نہیں بلکہ تدریسی عمل کو مزید مؤثر بنانے کا ایک معاون ذریعہ ہوگا۔ یہ سیشن AXL پلیٹ فارم کے ذریعے چلائے جائیں گے، جسے تلنگانہ حکومت نے EkStep Foundation کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم طلبہ کو انفرادی رفتار سے سیکھنے اور فوری فیڈبیک حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔
حکام کے مطابق گزشتہ تعلیمی سال میں یہ منصوبہ 1,640 سرکاری اسکولوں اور 22 ہزار سے زائد طلبہ تک محدود تھا، تاہم اب اس کا دائرہ بڑھا کر 3 ہزار سے زیادہ اسکولوں تک وسیع کر دیا گیا ہے۔
کمزور طلبہ کی مدد کے لیے روزانہ سہ پہر 3 بجے سے 4 بجے تک خصوصی تدریسی سیشنز بھی منعقد کیے جائیں گے، جہاں اساتذہ اضافی رہنمائی فراہم کریں گے تاکہ کوئی بھی طالب علم تعلیمی طور پر پیچھے نہ رہ جائے۔
اسی کے ساتھ طلبہ کی کارکردگی جانچنے کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل نیا اسسمنٹ سسٹم بھی نافذ کیا جا رہا ہے۔ جولائی میں بیس لائن، نومبر میں مڈ لائن اور مارچ میں اینڈ لائن ٹیسٹ لیے جائیں گے، جبکہ تمام نتائج **اسکول ایجوکیشن ایپ** پر اپ لوڈ کیے جائیں گے تاکہ طلبہ کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے۔