Friday, August 21, 2026 | 06 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • چینی کی بڑھتی قیمتوں پر حکومت سخت، اسٹاک کی حد مقرر

چینی کی بڑھتی قیمتوں پر حکومت سخت، اسٹاک کی حد مقرر

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 20, 2026 IST

چینی کی بڑھتی قیمتوں پر حکومت سخت، اسٹاک کی حد مقرر
ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ممکنہ ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے سخت اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے بلک صارفین کے لیے چینی کے ذخیرے کی حد مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ شوگر ملوں کی فروخت کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔
 
بلک صارفین 15 دن سے زیادہ کا اسٹاک نہیں رکھ سکیں گے
 
نئے احکامات کے تحت کوئی بھی بلک صارف اپنی 15 دن کی ضرورت سے زیادہ چینی ذخیرہ نہیں کر سکے گا۔ بلک صارفین میں وہ ادارے اور تاجر شامل ہیں جو گزشتہ سال کے دوران اوسطاً ہر ماہ کم از کم 10 میٹرک ٹن چینی استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس زمرے میں مٹھائی بنانے والے بڑے تاجر، سافٹ ڈرنک کمپنیاں، فوڈ پروسیسنگ یونٹس اور دیگر بڑے صارفین شامل ہیں۔تاہم، مرکزی و ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مقامی سرکاری اداروں کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
 
GST ریٹرن سے ہوگی خرید و فروخت کی نگرانی
 
حکومت نے چینی کی خرید و فروخت میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے GST ریٹرنز اور HSN کوڈز کے ذریعے لین دین کی تصدیق کا فیصلہ کیا ہے۔شوگر ملوں کی جانب سے بلک صارفین کو براہِ راست یا ڈیلرز کے ذریعے کی جانے والی فروخت کا ریکارڈ خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کے GST ریکارڈ سے ملایا جائے گا۔
 
17 سے 19 اگست تک کی فروخت کا ریکارڈ طلب
 
حکومت نے شوگر ملوں سے 17، 18 اور 19 اگست کو کی گئی چینی کی تمام فروخت کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ ملوں کو ہر لین دین کا مکمل ریکارڈ فراہم کرنا ہوگا۔اس میں خریدار کا نام، مکمل پتہ، موبائل یا فون نمبر، GST نمبر، فروخت کی مقدار اور فی کوئنٹل قیمت شامل ہوگی۔اگر ایک ہی دن مختلف خریداروں کو مختلف قیمتوں پر چینی فروخت کی گئی ہے تو ہر لین دین کا الگ ریکارڈ پیش کرنا ہوگا۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد ذخیرہ اندوزی پر روک لگانا، مارکیٹ میں چینی کی مناسب دستیابی برقرار رکھنا اور قیمتوں میں مصنوعی اضافے کو کنٹرول کرنا ہے۔