مدھیہ پردیش میں اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی کی سپلائی ہونے کے بعد 15 افراد کی موت اور سینکڑوں لوگوں کے بیمار ہونے کی واردات سے پورے صوبے میں ہلچل مچ گئی ہے۔ لوگوں میں غم و غصہ بھڑکا ہوا ہے اور اپوزیشن بھی مسلسل حکومت پر حملہ آور ہے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ موہن یادو نے معاملے میں سختی دکھاتے ہوئے 2 افسران کو معطل کر دیا ہے، جبکہ دو اہم افسران کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔
ان افسران کے خلاف ہوئی کاروائی
وزیر اعلیٰ یادو نے ایکس پر لکھا، میں نے اندور نگر نگم کمشنر اور ایڈیشنل کمشنر کو اس سلسلے میں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے، ایڈیشنل کمشنر روہت سسونیا کو فوری ہٹانے اور جل وٹران ورکس ڈپارٹمنٹ کے انچارج سپرنٹنڈنٹ انجینئر کو کام سے آزاد کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ میں نے کھرگون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آکاش سنگھ، آلی راجپور کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پرکھر سنگھ اور ڈپٹی ٹرانسپورٹ کمشنر اندور آشیز کمار پاٹھک کو ایڈیشنل کمشنر نگر نگم اندور کے عہدے پر تعینات کیا ہے۔
بیمار مریضوں پر رکھی جا رہی ہے نظر:
اندور کے چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر (سی ایم ایچ او) مادھو پرساد ہسنی نے بتایا کہ سینئر ڈاکٹر اور ضلعی انتظامیہ کے افسران متاثرہ مریضوں کے مناسب علاج کو یقینی بنانے کے لیے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام تعینات ڈاکٹر اور افسران یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ مریضوں کو مناسب علاج ملتا رہے۔ ہم اس آلودہ پانی کے معاملے کی سماعت کر رہے ہیں اور آگے کی معلومات بعد میں دی جائیں گی۔
وزیر اعلیٰ یادو نے لی ضروری میٹنگ:
اندور میں آلودہ پانی کی سپلائی ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ یادو نے شام کو صوبے کے تمام 16 نگر نگموں کے میئر، چیئرمین اور کمشنروں کے ساتھ ساتھ ضلعی کلکٹر، ہیلتھ ڈپارٹمنٹ، اربن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ ہیڈ کوارٹر سطح کے افسران کی میٹنگ لی۔ میٹنگ میں پورے صوبے کی پینے کے پانی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد افسران کو مستقبل میں اس طرح کی وارداتوں کی تکرار روکنے کے احکامات دیے گئے۔
آلودہ پانی سے اب تک 15 افراد کی موت:
اندور میں آلودہ پانی سے جمعہ کو ایک اور بزرگ خاتون کی موت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس کے ساتھ آلودہ پانی سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 15 ہو گئی ہے۔ تاہم، حکومت نے سرکاری اعداد و شمار میں یہ تعداد صرف 4 ہی بتائی ہے۔ اسی طرح سینکڑوں کی تعداد میں لوگ بیمار بتائے جا رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ڈرینج کا پانی پینے کے پانی کی پائپ لائن میں ملنے سے لوگ بیمار ہوئے ہیں۔
شکایات کو مسلسل نظر انداز کیا گیا:
آلودہ پانی کی اطلاع 15 اکتوبر کو اندور میئر کی ہیلپ لائن نمبر پر کی گئی تھی۔ بھاگیرتھ پورہ کے رہائشی دینیش بھارتی ورما نے ایک مندر کے قریب واقع کنویں کے پانی میں کچھ خرابی دیکھی۔ انہوں نے کہا تھا، "بورویل کا پانی نالے کے پانی میں مل رہا ہے۔" نومبر میں ایک دیگر رہائشی شیوانی تھکلے نے بھی آلودہ پانی کی شکایت درج کرائی تھی۔ تاہم، افسران نے ملی 16 شکایات کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف 5 کا ہی حل کیا۔
میڈیکل رپورٹ میں تصدیق- آلودہ پانی سے گئیں جانیں:
مہاتما گاندھی میموریل میڈیکل کالج اور نرمدا سپلائی برانچ کی لیبارٹری کی رپورٹ میں تصدیق ہوئی ہے کہ پانی میں جان لیوا بیکٹیریا تھا۔ ڈیلی بھاسکر سے بات کرتے ہوئے سی ایم ایچ او ہسنی نے بتایا کہ نمونوں میں تصدیق ہوئی ہے کہ آلودہ پانی پینے سے ہی لوگ بیمار پڑے اور ان کی جان گئی ہے۔ پانی میں فیکل کولیفارم، ای کولی اور کلیبسیلا جیسے بیکٹیریا ملے ہیں، جس سے پیٹ درد، الٹی اور اسہال ہوتا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد اپوزیشن حکومت پر حاوی ہو گیا۔