اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا،کہ انشاءاللہ! ایک دن آئے گا، جب ایک حجاب پہننے والی بیٹی اس ملک کی وزیر اعظم بنے گی۔شاید اس وقت ہم نہیں رہیں گے،ہم سپرد خاک ہو گئے ہوں گے،زمین میں ہماری ہڈیاں بھی باقی نہیں ہوگی،مگر دیکھنا ایک وہ دن آئے گا،جب حجاب پہننے والی بیٹی ہندوستان کی وزیر اعظم بنے گی۔
ہر بھارتی اعلیٰ آئینی منصب پر فائز ہو سکتا ہے: اویسی
رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں لکھا ہوا ہے کہ صرف ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد ہی اس ملک(پاکستان) کا وزیر اعظم ،یا صدر بن سکتا ہے۔لیکن بھارت کا آئین مذہب کی بنیاد پر کسی کو اعلیٰ آئینی عہدوں سے محروم نہیں کرتا،بابا صاحب امبیڈکر کا آئین ہر بھارتی کو یہ حق دیتا ہے کہ ہر ہندوستانی شہری ،وزیر اعظم بن سکتا ہے،صدر جمہوریہ بن سکتا ہے،وزیر اعلی بن سکتا ہے،کسی بھی اعلیٰ آئینی منصب پر فائز ہو سکتا ہے۔کیونکہ اس ملک کا آئین تمام طبقات اور برادریوں کو مساوی حقوق دیتا ہے۔
اویسی کے بیان پر سیاسی حلقوں میں کھلبلی:
وہیں اویسی کے بیان پر سیاسی حلقوں میں ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ این سی پی کے سینئر رہنما پرفُل پٹیل نے کہا کہ اویسی ایسے بیانات صرف اپنے ووٹ بینک کو خوش کرنے کے لیے دیتے ہیں ،اور ان کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہیے۔ادھر شیو سینا (شنڈے گروپ) کی رہنما شائنا این سی نے بھی اویسی کے بیان پر تنقید کی۔ اسی معاملے پر آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے کہا کہ بھارت ایک ہندو راشٹر ہے اور وہ مانتے ہیں کہ ملک میں ہمیشہ ہندو وزیر اعظم ہی ہوگا۔
نفرت پھیلانے والوں کو اویسی کا پیغام:
رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے نفرت پھیلانے والی طاقتوں کو مخاطب کرتے ہوئےمزید کہا کہ ،یاد رکھو یہ نفرت جو تم مسلمانوں کے خلاف بھڑکا رہےہو،انشاء اللہ یہ نفرت زیادہ نہیں چلے گی۔تم ختم ہو جاؤگے نفرت پھیلانے والوں :محبت جب عام ہوگی تو لوگوں کو معلوم ہوگاکہ کیسے زہر انکے دلوں اور دماغ میں بھر دیا گیا تھا۔