کانگریس کی قیادت والی اپوزیشن اگلے ہفتے لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے جا رہی ہے۔ اس تناظر میں اس تحریک پر تناؤ پایا جاتا ہے۔ اسی لیے بی جے پی اور کانگریس پارٹیوں نے اپنے ممبران پالیمنٹ کو وہپ جاری کیے ہیں۔ انہوں نے ایوان میں بحث اور ووٹنگ کے دوران سب کو حاضر رہنے کی ہدایت دی ہے۔ پچھلے مہینے، کانگریس کی قیادت والی اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کانوٹس دیا تھا، جس میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
9اور10 مارچ جو پالیمنٹ میں بحث اور وٹنگ
اس پر بحث مارچ 9 اور 10 مارچ کو ہوگی جس کے بعد ووٹنگ ہوگی۔ اس لیے بی جے پی اور کانگریس پارٹیوں نے اپنے ممبران پارلیمنٹ کو وہپ جاری کیا ہے کہ ان کے تمام ممبران پالیمنٹ کو ایوان میں موجود رہیں اور ان دو دنوں میں حاضر رہیں۔ اس حد تک، بی جے پی نے مشورہ دیا ہے کہ ان کے اراکین پالیمنٹ ایوان میں موجود رہیں اور حکومت کی حمایت کریں۔ پچھلے مہینے، اپوزیشن کے 118 ایم پیز نے دستخط کیے اور نوٹس دیے، جس میں اسپیکر اوم برلا سے متعصبانہ انداز میں کام کرنے کا الزما لگایا گیا۔ تاہم نوٹس کے بعد ایوان کی کاروائی ملتوی کر دی گئی اور اس کی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئیں۔ مرکزی بجٹ پر اجلاسوں کا دوسرا مرحلہ اس ماہ کی 9 تاریخ سے شروع ہوگا۔ اجلاس کا پہلا مرحلہ درمیان میں ہی ملتوی کر دیا گیا۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
پارلیمنٹ کےبجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے
بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں ہی اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی۔ پھر اس پر بحث اور ووٹنگ ہوگی۔ یہ عمل شروع ہونے تک اوم برلا اسپیکر کی کرسی پر موجود رہیں گے۔ تاہم پیر کو شروع ہونے والی بحث کے دوران وہ ایک عام رکن پالیمنٹ کی طرح ایوان میں بیٹھیں گے۔ پارلیمنٹ کے قواعد کے مطابق، بطور رکن پارلیمنٹ، انہیں اسپیکر کے طور پر اپنے عہدے کا دفاع کرتے ہوئے بولنے کا موقع بھی ملے گا۔ تازہ ترین سیشنز 2 اپریل تک ہوں گے۔