ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جو ایران کو دھمکی دیتے ہوئے مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس دوران ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے دعویٰ کیا ہے کہ "متعدد امریکی فوجی ایران کے قبضے میں ہیں۔" علی لاریجانی نے یہ بیان ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے جاری کیا۔ انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ "مجھے یہ معلومات ملی ہیں کہ کئی امریکی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے، لیکن امریکہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ جنگ میں مارے گئے ہیں۔" تاہم، امریکہ کی طرف سے اس پر اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
اسی پوسٹ میں انہوں نے کہا، "اپنی ناکام کوششوں کے باوجود وہ سچائی کو زیادہ دیر تک چھپا نہیں سکیں گے۔" امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں ان کے 6 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ (7 مارچ) کو ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں ہلاک ہونے والے چھ امریکی فوجیوں کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔ دوسری طرف، ایران نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں اب تک 500 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ پورے ایران پر فضائی بمباری کر رہے ہیں، جس میں 1332 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سینکڑوں لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل ایران میں تیل کے ڈپوؤں پر بھی حملے کر رہا ہے۔ دوسری جانب، ایران بھی اسرائیل اور امریکہ کے خلاف جوابی کارروائی کر رہا ہے۔ ایران مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔