پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا حصہ آج سے شروع ہوگا جو کافی ہنگامہ خیز ثابت ہوسکتا ہے۔ لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا کی برطرفی کیلئے اپوزیشن کی طرف سے اسپانسر شدہ قرارداد کو پیش کرنے کا شیڈول ہے۔اس کے علاوہ مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ بھی نمایاں طور پر سامنے آنے کا امکان ہے کیونکہ حزب اختلاف پہلے ہی ایران کے تئیں اس کے موقف پر حکومت پر حملہ کر رہی ہے۔
دوسرے مسائل کے علاوہ ہندوستان کی روسی تیل کی خریداری پر امریکہ کی چھوٹ پر بھی اپوزیشن حکومت کو گھیرنے کی تیاری کررہی ہے۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے نتائج جس کی وجہ سے 60 لاکھ ووٹوں کو حذف کیاگیاہے، بھی پارلیمانی کارروائی پر اپنا سایہ ڈالنے کی امید ہے۔اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کئی اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے پیش کی گئی جنہوں نے الزام لگایا کہ انہوں نے ایوان میں صاف تعصبانہ طریقے سے کام کیا ہے۔
اپوزیشن نے مغربی ایشیا میں جاری تناؤ پر حکومت سے مکمل معلومات طلب کی ہیں۔ لوک سبھا کے نظر ثانی شدہ ایجنڈے میں خارجہ وزیر ایس جے شنکر کا بیان شامل کر لیا گیا ہے، جو موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالیں گے۔
جے شنکر کا بیان ہفتہ تک لوک سبھا کے ایجنڈے میں نہیں تھا:
انڈیا ٹوڈے کے مطابق، ہفتہ تک، لوک سبھا کے ایجنڈے میں صرف اپوزیشن کی حمایت یافتہ تحریک شامل تھی جس میں اسپیکر اوم برلا کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایران جنگ پر اپوزیشن کے تحفظات کے پیش نظر وزیر خارجہ کی بریفنگ کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ وہ پیر کو ایوان میں بریفنگ دیں گے۔ اس سے قبل، مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ وہ مغربی ایشیا میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد :
بجٹ سیشن کے پہلے مرحلے میں لوک سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت نہ دینے پر اپوزیشن اراکین نے اسپیکر برلا کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی تھی۔ 118 اپوزیشن اراکین کے دستخط شدہ نوٹس میں ان پر ایوان کی کاروائی کے دوران "واضح طور پر جانبدارانہ" رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ نوٹس کے بعد برلا لوک سبھا کی کارروائی میں حصہ نہیں لے رہے۔ وہ قرارداد پر فیصلے کے بعد کرسی پر واپس آئیں گے۔
کانگریس نے ایوان میں بحث کی حکمت عملی تیار کی :
بجٹ سیشن شروع ہونے سے پہلے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی اور لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی سمیت سینئر کانگریس رہنماؤں نے میٹنگ کی اور ایوان میں بحث کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی۔ پارٹی اس سیشن میں جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ بھی اٹھا سکتی ہے۔ بجٹ سیشن کے دوسرے حصے میں 2026-27 کے لیے وزارتوں کی گرانٹس کی جانچ اور فنانس بل 2026 منظور کیا جائے گا۔