Monday, March 09, 2026 | 19 رمضان 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پارلیمنٹ میں جاری مشرق وسطی تنازعہ پر کیا کہا؟

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پارلیمنٹ میں جاری مشرق وسطی تنازعہ پر کیا کہا؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Mar 09, 2026 IST

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پارلیمنٹ میں جاری  مشرق وسطی   تنازعہ پر  کیا کہا؟
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کو راجیہ سبھا میں مشرق وسطی میں جاری تنازعہ پر حکومت کی بریفنگ پیش کی۔ حزب اختلاف کے اراکین پارلیمنٹ کے ہنگامے کے درمیان، انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کی صورتحال تشویشناک ہے۔ انہوں نے سب سے تحمل کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
 
جے شنکر نے کیا کہا؟  
 
ایران سے جڑے موجودہ تنازع کو حل کرنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری جاری رکھنی چاہیے۔موجودہ صورتحال بھارت کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔ تنازع میں ایرانی قیادت سمیت متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کیبنٹ کمیٹی آن سیکیورٹی نے وزیراعظم نریندر مودی کو واقعات کی بریفنگ دی ہے۔ تمام ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ حکومت نے تمام فریقین سے تحمل برتنے کی اپیل کی تھی۔  
 
سپلائی چین میں رکاوٹ سنگین مسئلہ  :
 
جے شنکر نے کہا:ہم ایک پڑوسی خطہ ہیں، اور مغربی ایشیا میں استحکام برقرار رکھنے میں ہماری واضح دلچسپی ہے۔ خلیجی ممالک میں ایک کروڑ بھارتی رہائش پذیر اور کام کر رہے ہیں۔ ایران میں بھی ہزاروں بھارتی تعلیم اور ملازمت کے لیے موجود ہیں۔ یہ خطہ ہماری انرژی سیکیورٹی کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں تیل اور گیس کے اہم سپلائرز شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سپلائی چین میں سنگین رکاوٹیں اور عدم استحکام سنگین مسائل ہیں۔  
 
بات چیت اور سفارت کاری کو آگے بڑھانا چاہیے  :
 
انہوں نے کہا:تنازع مسلسل بڑھ رہا ہے، علاقائی سلامتی کی صورتحال شدید خراب ہو گئی ہے۔ یہ تنازع دیگر ممالک میں بھی پھیل چکا ہے اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عام زندگی اور سرگرمیوں پر براہ راست اثر پڑا ہے۔حکومت کا موقف ہے کہ تناؤ کم کرنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ بیان کے دوران اپوزیشن اراکین نعرے بازی کرتے رہے۔  
 
بھارتی صارفین کے مفادات اولین ترجیح  :
 
جے شنکر نے کہا کہ بھارتی صارفین کا مفاد حکومت کی سب سے بڑی ترجیح رہے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس بحران سے سپلائی چین میں سنگین خلل پڑ سکتا ہے۔ انرجی سیکیورٹی اور بھارتی شہریوں کی بہبود سمیت بھارت کے قومی مفادات اولین ترجیح ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بڑھتے تناؤ کے باوجود تقریباً 67,000 بھارتی شہری اس خطے سے واپس آ چکے ہیں۔  
 
جے پی نڈا نے اپوزیشن پر غیر ذمہ دارانہ رویے کا الزام لگایا  :
 
راجیہ سبھا کے لیڈر آف دی ہاؤس اور وزیر صحت جے پی نڈا نے جے شنکر کے بیان کے دوران مسلسل نعرے بازی پر اپوزیشن کو غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اپوزیشن کی دلچسپی نہ ملک میں ہے نہ بحث میں، وہ صرف ہنگامہ آرائی کرنا چاہتے ہیں۔