تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہای حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے اتوار کی صبح (یکم مارچ 2026) ان کی موت کی تصدیق کی۔ 86 سالہ رہنما کی شہادت کو خطے کی حالیہ تاریخ کا ایک اہم اور غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر Trump نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خامنہای کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایرانی عوام کے لیے اپنا ملک “واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف بمباری جاری رہے گی۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جوہری صلاحیتوں کو غیر مؤثر بنانے کے مقصد سے کی گئی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے Islamic Republic News Agency نے خامنہای کی شہادت کی تصدیق کی، تاہم موت کی وجوہات سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی خبروں میں بھی حملے کے بعد کی صورتحال پر روشنی ڈالی گئی۔
ایرانی ذرائع ابلاغ، خصوصاً Fars News Agency کے مطابق حملوں میں سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد اور دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ باخبر خاندانی ذرائع سے رابطے کے بعد اہلِ خانہ کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خامنہای کی شہادت سے ایران میں قیادت کا خلا پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کا کوئی واضح جانشین سامنے نہیں آیا تھا۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز تھے اور ملکی و خارجہ پالیسی سمیت تمام اہم امور پر حتمی اختیار رکھتے تھے۔ وہ ایران کے مذہبی ڈھانچے اور نیم فوجی تنظیم Islamic Revolutionary Guard Corps کی نگرانی بھی کرتے تھے، جو ملکی نظام میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں ایران کی داخلی سیاست، علاقائی تعلقات اور عالمی سفارت کاری میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب ایران کی آئندہ قیادت اور ممکنہ ردعمل پر مرکوز ہیں