Wednesday, January 14, 2026 | 25, 1447 رجب
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران سیاسی بحران کی لپیٹ میں،عالمی سطح پراظہار تشویش :اسپیشل رپورٹ

ایران سیاسی بحران کی لپیٹ میں،عالمی سطح پراظہار تشویش :اسپیشل رپورٹ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 13, 2026 IST

 ایران سیاسی بحران کی لپیٹ میں،عالمی سطح پراظہار تشویش :اسپیشل رپورٹ
ایران میں پھیلتے ہوئے حکومت مخالف مظاہروں نے نہ صرف ملکی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔امریکہ کی جانب سے سخت ترین انتباہ بھی سامنے آ گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’’بڑی مشکل‘‘ سے خبردار کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر مظاہرین کو طاقت کے ذریعے دبایا گیا تو واشنگٹن فوجی کارروائی سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس سخت بیان نے ایران، امریکہ اور پورے خطے کو ایک نئے اور نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ہر قدم کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے جا سکتے ہیں۔ 

 سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا انتباہ 

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حکومت مخالف مظاہرین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’شرپسند عناصر‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرین امریکی صدر کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ٹیلی ویژن خطاب میں  ایرانی رہنما نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران سینکڑوں ہزاروں جانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوئی اور کسی دباؤ کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گی۔دوسری جانب ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں امریکہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ایران میں ہونے والے مظاہروں کو پرتشدد اور تخریبی کارروائیوں میں تبدیل کرنے کا ذمہ دار ہے۔ایران میں حالات بدستور کشیدہ ہیں جبکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بیانات کی جنگ مزید تیز ہوتی جا رہی ہے۔ 

 کیاجلاوطن سابق ولی عہد رضا پہلوی ہیں متبادل

ایران میں جاری شدید عوامی احتجاج کے بیچ ایک اہم آواز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایران کے جلاوطن سابق ولی عہد رضا پہلوی نے مظاہرین کے حق میں کھل کر موقف اختیار کرتے ہوئے ایرانی حکومت پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔  رضا پہلوی نے مغربی دنیا سے بھی عملی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ خود کو’امن کا صدر‘ قرار دیا 

امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں فوجی کاروائی کے احکامات سے انہیں اگر کوئی چیز روکتی ہے تو وہ خود ان کی ’اپنی اخلاقیات‘ ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ عالمی سطح پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کے حوالے سے ان کی کوئی حد ہے؟ تو اس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہاں صرف ایک چیز ہے، میری اپنی اخلاقیات اور دماغ، صرف یہ چیزیں مجھے کسی کام سے روک سکتی ہیں۔‘ڈونلڈ ٹرمپ خود کو’امن کا صدر‘ قرار دیتے ہوئے نوبیل انعام کے خواہاں ہیں جبکہ ان کے دوسرے دور صدارت میں فوجی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ چنانچہ ایران میں جاری موجودہ سیاسی شورش بھی امریکی ایجنڈہ کا حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے جارحانہ نظریات سے ساری دنیا میں سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ سابق سفیر انیل تریگنیت  کہتے ہیں اگر اس مرحلے پر امریکا یا اسرائیل کھلے عام ایران پر حملہ کرتے ہیں تو ہم ایک بڑے تنازع کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔
منصف ٹی وی کی اسپیشل رپورٹ۔
 
 

امریکی فوجی آپریشن کے بعد دنیا بھر میں یہ سوال

وینزویلا میں امریکی فوجی  آپریشن کے بعد دنیا بھر میں یہ سوال کھڑا کر دیا کہ کیا ایران بھی اسی طرح کے کسی اقدام کا اگلا ہدف بن سکتا ہے؟لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کوئی وینزویلا نہیں۔ تہران کی زمینی حقیقتیں، فوجی طاقت اور علاقائی حمایت، کسی بھی براہِ راست امریکی مداخلت کو انتہائی پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔اس خصوصی رپورٹ میں جانتے ہیں کہ ایران میں وینزویلا   ماڈل کے نفاذ کو ناممکن کیوں سمجھا جا رہا ہے۔