Wednesday, January 14, 2026 | 25, 1447 رجب
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • ہائی بلڈ پریشراورذیابیطس کے مریض انفیکشن پر یہ عام غلطیاں نہ کریں

ہائی بلڈ پریشراورذیابیطس کے مریض انفیکشن پر یہ عام غلطیاں نہ کریں

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 13, 2026 IST

ہائی بلڈ پریشراورذیابیطس کے مریض انفیکشن پر یہ عام غلطیاں نہ کریں
اکثر لوگ نزلہ، کھانسی، بخار یا کسی معمولی انفیکشن کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، لیکن جن افراد کو شوگر یا ہائی بلڈ پریشر جیسی دائمی بیماریاں لاحق ہوں، ان کے لیے یہی معمولی انفیکشن بھی سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان مریضوں کا مدافعتی نظام نسبتاً کمزور ہو جاتا ہے، جس کے باعث جسم انفیکشن سے مؤثر انداز میں لڑ نہیں پاتا اور صحت یابی میں زیادہ وقت لگتا ہے۔اس موضوع پرڈاکٹرسید مصطفی اشرف، سینئر کنسلٹنٹ-جنرل میڈیسن، کیئرہاسپٹلس ملک پیٹ حیدرآباد نے اہم جانکاری دی۔

عام انفیکشن کیوں زیادہ خطرناک ہوجاتے ہیں؟

ڈاکٹرسید مصطفی اشرف کے مطابق، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے مریض عام افراد کے مقابلے میں انفیکشن کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ شوگر کی زیادتی جسم کے دفاعی نظام کو کمزورکر دیتی ہے، جبکہ ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے خون کی نالیوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس سے جسمانی اعضاء کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

 کن انفیکشنز سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟

ان مریضوں کے لیے درج ذیل انفیکشنز خاص طور پر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں:

  • سینے اور پھیپھڑوں کے انفیکشن
  • پیشاب کی نالی کا انفیکشن
  •  جلد اور زخموں کے انفیکشن
  •  فلو اور نمونیا
  • ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کے انفیکشن
  • یہ انفیکشن اگر بروقت کنٹرول نہ کیے جائیں تو اسپتال میں داخلے یا پیچیدہ علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

معمولی بخار بھی خطرے کی گھنٹی

اکثرمریض یہ سمجھتے ہیں کہ ہلکا بخار یا نزلہ کوئی مسئلہ نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انفیکشن کے دوران جسم میں تناؤ کے ہارمونز خارج ہوتے ہیں، جو بلڈ شوگر کو اچانک بڑھا سکتے ہیں اور بلڈ پریشر کے کنٹرول کو خراب کر سکتے ہیں۔

 خطرناک علامات جنہیں نظر انداز نہ کریں

ڈاکٹر کے مطابق درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے:

  •  تیز بخار
  •  شدید کمزوری
  • قے یا متلی
  •  سانس لینے میں دشواری
  •  شوگر لیول کا بہت زیادہ بڑھ جانا
  •  چکر آنا
  •  سینے میں درد یا دباؤ

ادویات کے حوالے سے احتیاط

زیادہ تر صورتوں میں ہائی بی پی اور شوگر کی ادویات جاری رکھنی چاہئیں، تاہم ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کسی بھی دوا کو بند کرنا یا تبدیل کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

 کب فوراً ڈاکٹر سے رابطہ ضروری ہے؟

  •  بخار دو دن سے زیادہ برقرار رہے
  •  شوگر لیول قابو میں نہ آئے
  •  بلڈ پریشر بہت زیادہ یا بہت کم ہو جائے
  •  علامات میں بگڑاؤ محسوس ہو

 عام غلطیاں جو مریض کرتے ہیں

  •  خود سے اینٹی بائیوٹکس لینا
  •  دوائیں چھوڑ دینا
  •  پانی کم پینا
  •  شوگر یا بی پی کی باقاعدہ جانچ نہ کرنا
  • یہ غلطیاں انفیکشن کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔

صحت یابی کے لیے کیا ضروری ہے؟

انفیکشن کے دوران:

 مناسب مقدار میں پانی پینا
 متوازن اور ہلکی غذا لینا
 مکمل آرام کرنا
یہ تمام عوامل صحت یابی کے عمل کو تیز کرتے ہیں۔

 انفیکشن سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

ماہرین کے مطابق درج ذیل احتیاطی تدابیر بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:

  •  ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں
  •  فلو اور دیگر ضروری ویکسین لگوائیں
  •  شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھیں
  •  صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں
  •  ڈاکٹر سے باقاعدہ فالو اپ کریں
ہائی بلڈ پریشراور ذیابیطس کے مریضوں کے لیےعام انفیکشن کو معمولی سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ بروقت علاج، باقاعدہ نگرانی اور احتیاطی تدابیر اپنا کر نہ صرف پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ صحت مند زندگی بھی گزاری جا سکتی ہے۔ڈاکٹر سید مصطفی اشرف، سینئر کنسلٹنٹ -جنرل میڈیسن، کیئر ہاسپٹلس ملک پیٹ حیدرآبادا، سے مکمل بات چیت  منصف ٹی وی چینل پر دیکھ سکتےہیں۔