• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایرانی فوجی مشیر کا بڑا دعویٰ،ٹرمپ کی صدارت ختم ہونے تک امریکہ سے تنازع جاری رکھ سکتا ہے ایران،آبنائے ہرمز پر ایران کا دوٹوک مؤقف

ایرانی فوجی مشیر کا بڑا دعویٰ،ٹرمپ کی صدارت ختم ہونے تک امریکہ سے تنازع جاری رکھ سکتا ہے ایران،آبنائے ہرمز پر ایران کا دوٹوک مؤقف

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 13, 2026 IST

ایرانی فوجی مشیر کا بڑا دعویٰ،ٹرمپ کی صدارت ختم ہونے تک امریکہ سے تنازع جاری رکھ سکتا ہے ایران،آبنائے ہرمز پر ایران کا دوٹوک مؤقف
ایران کے ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کو ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت ختم ہونے تک جاری رکھ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کا مقصد اپنی دفاعی طاقت اتنی مضبوط کرنا ہے کہ مستقبل میں کوئی بھی ملک اس پر حملہ کرنے سے پہلے کئی بار سوچے۔ یہ بیان اسلامی انقلابی گارڈ کور "آئی آر جی سی" کے کمانڈر کے سینئر مشیر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے دیا۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی، جنگ کے ممکنہ دورانیے، آبنائے ہرمز اور ایران کی فوجی طاقت کے بارے میں بات کی۔

 ایران تنازع کو مزید عرصے تک جاری رکھ سکتا ہے

محمد رضا نقدی نے کہا کہ ایران اس تنازع کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران اس جنگ سے مزید تجربہ حاصل کر رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کی جنگی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کو اس وقت تک جاری رکھنے پر غور کر سکتا ہے جب تک امریکہ میں ٹرمپ کی موجودہ صدارت ختم نہیں ہو جاتی۔ ان کے مطابق اس کا مقصد صرف جنگ جاری رکھنا نہیں بلکہ ایسی صورتحال پیدا کرنا ہے جس سے مستقبل میں کسی دشمن کو ایران پر حملہ کرنے سے پہلے اس کی قیمت کا اندازہ ہو۔ نقدی نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی طاقت اور مزاحمت کو مضبوط بنانا چاہتا ہے تاکہ ملک مستقبل میں زیادہ محفوظ رہ سکے۔

 امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا، ایرانی مشیر کا دعویٰ

ایرانی فوجی مشیر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف کاروائی کے دوران دو بڑے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق پہلا مقصد ایرانی قیادت کو ہٹانا اور دوسرا ایران کو کمزور یا تقسیم کرنا تھا۔ نقدی نے کہا کہ امریکہ اپنے ان مقاصد میں کامیاب نہیں ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ صورتحال میں ایران نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اور جنگ کے دوران اسے مزید تجربہ حاصل ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے یہ بھی دیکھا ہے کہ امریکی فوج اتنی مضبوط نہیں جتنی ایران پہلے سمجھتا تھا۔

 امریکی جنگی حکمت عملی پر تنقید

محمد رضا نقدی نے امریکہ کی جنگی حکمت عملی پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ بار بار اپنے جنگی مقاصد تبدیل کرتا رہا۔ ان کے مطابق کبھی امریکہ کی جانب سے ایران کے جزیرے کھرگ پر حملے کی بات کی گئی اور کبھی آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی جنگی جہاز بھی علاقے میں متحرک کیے گئے، لیکن اس کے باوجود امریکہ اپنے مقاصد واضح طور پر حاصل نہیں کر سکا۔ نقدی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی کاروائیاں ایک واضح منصوبے کے بجائے مختلف فیصلوں کا مجموعہ بن گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ان تمام حالات کا مقابلہ کیا اور اسے اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔

 ایران کے پاس میزائل اور ڈرون کا بڑا ذخیرہ ہے

ایرانی فوجی مشیر نے ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کے پاس میزائلوں اور ڈرونز کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ نقدی نے کہا کہ ایران مسلسل نئے میزائل اور ڈرون تیار کر رہا ہے اور اس کی پیداوار جاری ہے۔ ان کے مطابق ایران روزانہ اتنے ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جتنے وہ استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر جنگ کئی سال تک جاری رہی تو ایران آخری دن تک اپنے میزائل استعمال کرتا رہے گا۔ نقدی کے مطابق اگر کسی مرحلے پر ایران کے پاس میزائل کم بھی ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کی مزاحمت ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس امریکہ کے خلاف دباؤ ڈالنے کے دوسرے طریقے بھی موجود ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ امریکہ کے دنیا کے مختلف حصوں میں بہت سے معاشی مفادات ہیں۔

 آبنائے ہرمز کے بارے میں ایران کا موقف

انٹرویو کے دوران نقدی سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری بحری جہازوں کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ اس پر انہوں نے بین الاقوامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کی صورتحال میں ایران کسی بھی ایسے راستے کو خطرہ سمجھ سکتا ہے جس سے اسے خطرہ محسوس ہو۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے اور خلیج فارس سے تیل کی عالمی ترسیل کے لیے اس کی خاص اہمیت ہے۔ اسی وجہ سے اس راستے سے متعلق ایران کے کسی بھی اقدام سے عالمی سطح پر تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔ نقدی نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات کی اور اس مقصد کے لیے اپنی فوجی طاقت بھی استعمال کرنے کی کوشش کی، لیکن ایران نے اس صورتحال کا مقابلہ کیا۔

 اگر امریکہ جوہری ہتھیار استعمال کرے؟

ایرانی فوجی مشیر سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کرے تو کیا ہوگا۔ نقدی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دوسرے ممالک امریکہ کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال  اس دور سے مختلف ہے اور کسی ملک کے لیے جوہری ہتھیار استعمال کرنا آسان فیصلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نقدی نے کہا کہ ایران کو اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے جوہری بم کی ضرورت نہیں ہے۔

 ’امریکہ مردہ باد‘ نعرے کا مطلب کیا ہے؟

محمد رضا نقدی نے ایران میں لگائے جانے والے ’’امریکہ مردہ باد‘‘ کے نعرے کی بھی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکی عوام سے دشمنی نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ نعرہ امریکی عوام کے خلاف نہیں بلکہ امریکی حکومت اور اس کی قیادت کی پالیسیوں کے خلاف ہے۔ نقدی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے عام لوگوں کے درمیان دشمنی نہیں ہونی چاہیے اور ایران کی مخالفت امریکی قیادت کی پالیسیوں سے ہے۔

 ایران جوہری بم کے بجائے اپنی مزاحمت کو طاقت سمجھتا ہے

نقدی نے انٹرویو کے آخر میں کہا کہ ایران اپنی طاقت کو صرف ہتھیاروں سے نہیں دیکھتا۔ ان کے مطابق ایران کی اصل طاقت اس کی مزاحمت، لوگوں کی حمایت اور اپنے نظریات پر قائم رہنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے جبر اور دباؤ کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے اور اسی کو وہ اپنی بڑی طاقت سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کو دنیا کے سامنے اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے جوہری ہتھیار یا بڑے پیمانے پر تباہی کی ضرورت نہیں ہے۔

 ایران کا مقصد مستقبل کے حملوں کو روکنا ہے

نقدی نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق ایران ایسا دفاعی نظام چاہتا ہے جس کی وجہ سے مستقبل میں کوئی دشمن ایران پر حملہ کرنے کی ہمت نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران جنگ کو طویل عرصے تک جاری رکھتا ہے تو اس کا ایک مقصد یہ بھی ہوگا کہ دوسرے ممالک کو یہ پیغام دیا جائے کہ ایران پر حملہ کرنا آسان نہیں اور اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ایک اہم فوجی عہدیدار کے مطابق ایران موجودہ تنازع کو صرف فوری جنگ کے طور پر نہیں دیکھ رہا بلکہ اسے اپنی مستقبل کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ بھی سمجھتا ہے۔  نقدی کے یہ تمام دعوے ایرانی مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔