Wednesday, February 04, 2026 | 16, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران صرف جوہری معاملات پر بات کرے گا: ایرانی حکام

ایران صرف جوہری معاملات پر بات کرے گا: ایرانی حکام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 04, 2026 IST

ایران صرف جوہری معاملات پر بات کرے گا: ایرانی حکام
آئندہ جمعہ کو متوقع ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے مقام اور ایجنڈے کو لے کر جاری ابہام کے درمیان ایران نے اپنا موقف ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ ایک علاقائی عہدیدار کے مطابق ایران نے ابتدا ہی سے امریکہ کو بتا دیا تھا کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کرے گا اور اس کے علاوہ کسی اور موضوع کو مذاکرات میں شامل نہیں کیا جائے گا۔خبر رساں ادارے کے مطابق بدھ کے روز اس عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فریق چاہتا ہے کہ مذاکرات کے دوران دیگر معاملات پر بھی گفتگو کی جائے، تاہم ایران اس پر آمادہ نہیں ہے۔

مذاکرات کا مقام: استنبول نہیں،عمان ترجیح

عہدیدار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران سابقہ جوہری مذاکرات کے باقی مراحل کو مکمل کرنے کے لیے استنبول کے بجائے سلطنتِ عمان میں امریکی وفد سے ملاقات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ استنبول میں مذاکرات کی منصوبہ بندی کے دوران علاقائی نمائندوں کو شامل کرنے پر بھی بات ہوئی تھی، تاہم ایران اب عمان کو زیادہ مناسب مقام سمجھتا ہے۔

دفاعی صلاحیتوں پر کوئی بات نہیں

اس سے قبل ایک ایرانی سفارتی عہدیدار نے واضح طور پر کہا تھا کہ ایران صرف جوہری فائل پر بات کرے گا اور دفاعی صلاحیتوں، بیلسٹک میزائلوں یا سکیورٹی امور پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نہ تو ان مذاکرات کے بارے میں بہت زیادہ پرامید ہے اور نہ ہی مایوس۔ایرانی حکام کا موقف ہے کہ دفاعی سکیورٹی اور میزائل پروگرام ایران کے خودمختار قومی معاملات ہیں، جن پر کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

امریکہ کا مؤقف اور دباؤ

دوسری جانب امریکی ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائلوں اور خطے میں مسلح گروہوں کے لیے ایران کی حمایت کے معاملات پر بھی بات چیت کی جائے۔ صدر ٹرمپ متعدد بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے منگل کے روز بھی اس دھمکی کو دہرایا۔

دھمکیوں میں مذاکرات قبول نہیں

ایرانی حکام نے امریکی بیانات کو “خوف پھیلانے کی مہم” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ماحول میں بامعنی مذاکرات ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران دھمکیوں کے سائے میں بات چیت نہیں کرے گا اور باہمی احترام کے بغیر کسی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

 کیا چیزیں مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہوسکتےہیں

مبصرین کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان رابطہ ایک اہم قدم ہے، تاہم ایجنڈے پر اختلافات اور سخت بیانات مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا دونوں فریق کسی مشترکہ نکتے پر پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔