جگر انسانی جسم کا ایک نہایت اہم عضو ہے، جو جسم میں خوراک کو توانائی میں بدلنے، زہریلے مادّوں کو خارج کرنے اور کئی ضروری پروٹینز بنانے کا کام کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر جگر متاثر ہو جائے تو اس کا اثر پورے جسم پر پڑتا ہے۔ یشودا ہاسپٹل سکندرآباد کے سینئر لیور ٹرانسپلانٹ اور جی آئی سرجن ڈاکٹر محمد عبدالنّعیم نے منصف ٹی وی کے پروگرام ہیلتھ اور ہم میں بتایا کہ جگر کی بیماریوں کی 80 سے 90 فیصد بڑی وجوہات میں الکحل کا استعمال، فیٹی لیور، ہیپاٹائٹس بی اور سی شامل ہیں۔
خاموش بیماری، دیر سے ظاہر ہونے والی علامات
ڈاکٹر عبدالنّعیم کے مطابق جگر کی بیماری اکثر ابتدائی مراحل میں علامات ظاہر نہیں کرتی۔ 60 سے 70 فیصد تک جگر خراب ہونے کے باوجود مریض کو صرف تھکن، بھوک میں کمی یا وزن کم ہونے جیسی عام علامات محسوس ہوتی ہیں۔ جب بیماری بڑھ جاتی ہے تو یرقان، پیٹ میں پانی بھرنا (اسائٹس)، ٹانگوں میں سوجن، خون کی الٹی، کالا پاخانہ اور ذہنی الجھن جیسی سنگین علامات سامنے آتی ہیں، جو ایڈوانس لیور ڈیزیز کی نشاندہی کرتی ہیں۔
فیٹی لیور: ایک بڑھتا ہوا خطرہ
انہوں نے خبردار کیا کہ فیٹی لیور تیزی سے پھیلنے والی بیماری بن چکی ہے، جو اب بچوں اور نوجوانوں میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔ اس کی بڑی وجوہات جنک فوڈ، میٹھے مشروبات، موبائل پر زیادہ وقت گزارنا اور جسمانی سرگرمی کی کمی ہیں۔ بھارت میں تقریباً 40 فیصد بالغ افراد اور 30 فیصد نوعمر بچے فیٹی لیور کا شکار ہیں۔ اگر بروقت علاج اور طرزِ زندگی میں تبدیلی نہ کی جائے تو یہی بیماری آگے چل کر لیور فیلئر اور ٹرانسپلانٹ تک نوبت پہنچا سکتی ہے۔
لیور ٹرانسپلانٹ: کب اور کیسے؟
جب دواؤں اور علاج کے باوجود جگر بہتر نہ ہو اور بیماری جان لیوا مرحلے میں داخل ہو جائے تو لیور ٹرانسپلانٹ واحد مؤثر حل رہ جاتا ہے۔ ٹرانسپلانٹ دو طرح سے کیا جاتا ہے:
ایک، زندہ ڈونر کے ذریعے، جس میں قریبی رشتہ دار اپنے جگر کا ایک حصہ عطیہ کرتا ہے۔
دوسرا، مردہ ڈونر (کیڈاور) کے ذریعے، جو ریاستی ’’جیوندان‘‘ پروگرام کے تحت کیا جاتا ہے۔
جگر کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں دوبارہ بڑھنے (ری جنریشن) کی صلاحیت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ڈونر اور مریض دونوں صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔
کامیابی اور احتیاط
ڈاکٹر کے مطابق اگر ٹرانسپلانٹ بروقت ہو تو اس کی کامیابی کی شرح 95 فیصد سے زائد ہے۔ سرجری کے بعد مریض چند ماہ میں معمول کی زندگی اور کام پر واپس آ سکتا ہے، بشرطیکہ وہ باقاعدہ فالو اپ، ادویات کا استعمال اور صحت مند طرزِ زندگی اپنائے۔ الکحل سے مکمل پرہیز، گھر کا سادہ کھانا اور باقاعدہ ورزش نہایت ضروری ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آگاہی، وقت پر تشخیص اور درست علاج سے جگر کی بیماریوں کو روکا جا سکتا ہے، اور لیور ٹرانسپلانٹ واقعی ایک نئی زندگی کی شروعات ثابت ہو سکتا ہے۔ جگر کی بیماریاں اور لیور ٹرانسپلانٹ پر ڈاکٹر سے مکمل بات چیت آپ یہاں بھی دیکھ سکتے ہیں۔