مغربی ایشیا میں امریکہ کے فوجی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ کئی امریکی حکام اور صورتحال سے واقف افراد نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نقصانات ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہوئے ہیں۔ حکام نے NBC نیوز کو بتایا کہ تباہی کا دائرہ اب تک عوامی سطح پر شیئر کی گئی معلومات سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
ایران نے کم از کم 7 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا:
رپورٹ کے مطابق، ان حملوں نے کم از کم 7 ممالک میں اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان میں اسٹوریج گودام، کمانڈ سینٹرز، طیاروں کے ہینگرز اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے نظام شامل ہیں۔ان حملوں سے رن وے، ریڈار سسٹمز اور کچھ طیاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جو کہ فوجی نقل و حرکت اور نگرانی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ایک واقعے میں ،ایک پرانے ایرانی F-5 لڑاکا طیارے نے کامیابی سے حملہ کرنے کے لیے امریکی فضائی دفاعی نظام کو توڑ کر حملہ کرنے میں کامیاب رہا۔
نقصان پر حکومت کا کوئی سرکاری تبصرہ نہیں:
ایرانی حملوں میں ہونے والے اصل نقصان کے بارے میں امریکی محکمہ دفاع نے معلومات شیئر نہیں کی ہیں۔ مغربی ایشیا میں فوجی معاملات کی ذمہ دار امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی نقصان کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔شفافیت کے حوالے سے ریپبلکن اراکین پارلیمنٹ بھی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک رکن پارلیمنٹ نے کہا، "کسی کو کچھ نہیں معلوم۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ ہم نے معلومات نہیں مانگی، ہم ہفتوں سے معلومات مانگ رہے ہیں لیکن کوئی ٹھوس تفصیل نہیں مل رہی۔
معاشی طور پر بھی امریکہ پر بھاری پڑ رہی ہے جنگ:
امریکہ کے لیے جنگ کا ہر دن انتہائی مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، امریکہ ہر روز تقریباً 8,000 کروڑ روپے سے لے کر 1.88 لاکھ کروڑ روپے تک جنگ پر خرچ کر رہا ہے۔جنگ کے ابتدائی 6 دنوں میں ہی 1 لاکھ کروڑ روپے سے 1.19 لاکھ کروڑ روپے کے درمیان خرچ ہو چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پینٹاگون نے امریکی کانگریس سے 1.88 لاکھ کروڑ روپے کے بجٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
حکام کا موقف: سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نقصان کی تفصیل نہیں دے سکتے:
NBC سے بات کرتے ہوئے پینٹاگون کے ایک اہلکار نے کہا، ہم آپریشنل سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر لڑائی میں ہونے والے نقصانات کے تخمینے پر بحث نہیں کرتے۔ ہماری فوج مکمل طور پر آپریشنل ہے اور ہم اسی مستعدی اور جنگی صلاحیت کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔NBC نے مزید بتایا کہ وائٹ ہاؤس نے حملے کے بعد نجی سیٹلائٹ کمپنیوں سے امریکی اڈوں کی تصاویر شائع نہ کرنے کو کہا تھا۔