Thursday, January 15, 2026 | 26, 1447 رجب
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • کیا ترکی بھی پاکستان اور سعودی عرب دفاعی اتحاد میں شامل ہونے والا ہے؟

کیا ترکی بھی پاکستان اور سعودی عرب دفاعی اتحاد میں شامل ہونے والا ہے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 13, 2026 IST

کیا ترکی بھی  پاکستان  اور سعودی عرب دفاعی اتحاد میں شامل ہونے والا ہے؟
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ سال ستمبر 2025 میں ایک اہم اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا۔ یہ معاہدہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ریاض میں دستخط ہوا تھا، جس کے موقع پر پاکستانی آرمی چیف آصف منیر بھی موجود تھے۔اس معاہدے کے تحت اگر کسی بھی ملک پر کوئی جارحیت ہو تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، اور دونوں مل کر دفاع کریں گے۔ یہ شق نیٹو کے آرٹیکل 5 سے ملتی جلتی ہے۔ تاہم اس  اتحاد میں  اب ترکی بھی شامل ہونے کی خواہش مند ہے۔
 
حالیہ رپورٹس کے مطابق ترکی نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اتحاد میں شمولیت میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے تینوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترکی کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔
 
ترکی کے پاکستان اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، جن میں فوجی تعاون، ڈرون ٹیکنالوجی، ایف-16 اپ گریڈیشن اور بحری جہازوں کی تعمیر شامل ہے۔ ترکی اب سعودی عرب اور پاکستان کو اپنے پانچویں نسل کے KAAN جنگی طیارے کے پروگرام میں بھی شامل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔
 
ترکی کا مقصد کیا ہے؟
 
ترکی کے لیے یہ شمولیت علاقائی سلامتی کو مزید مضبوط کرے گی، کیونکہ کسی بھی ملک پر حملہ ہونے کی صورت میں دیگر دو ممالک اس کی مدد کریں گے۔ یہ امریکہ اور مغرب پر کم انحصار اور نئے علاقائی اتحاد کی طرف ایک قدم ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقہ میں بدلتے حالات کے پیش نظر۔
 
تینوں ممالک کو کیا فائدہ ملے گا؟
 
اگر ترکی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اس دفاعی اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو تینوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ سعودی عرب کے پاس بے پناہ دولت ہے۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ ترکی کے پاس ایک مضبوط فوجی طاقت ہے۔ تینوں کے اکٹھے ہونے سے ایک طاقتور دفاعی بلاک تشکیل پائے گا جو تینوں ممالک کے لیے انتہائی فوجی اہمیت کا حامل ہو گا۔ تاہم اس سے بھارت کے خدشات میں کسی حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔