Friday, May 22, 2026 | 04 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • اسرائیل میں سیاسی بحران اور انتخابی ہلچل: نیتن یاہو کی قیادت پر شدید دباؤ، اپوزیشن تقسیم کا شکار

اسرائیل میں سیاسی بحران اور انتخابی ہلچل: نیتن یاہو کی قیادت پر شدید دباؤ، اپوزیشن تقسیم کا شکار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 22, 2026 IST

اسرائیل میں سیاسی بحران اور انتخابی ہلچل: نیتن یاہو کی قیادت پر شدید دباؤ، اپوزیشن تقسیم کا شکار
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال، غزہ اور لبنان میں مسلسل کشیدگی اور ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان اسرائیل کی داخلی سیاست ایک بڑے بحران اور اہم انتخابی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آنے والے عام انتخابات سے قبل سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہے اور وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی قیادت پر سوالات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔
 
سیاسی مبصرین کے مطابق اسرائیل میں انتخابی مہم اس وقت سخت الزامات، شدید سیاسی بیان بازی اور عوامی غصے کے ماحول میں آگے بڑھ رہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کے بعد شروع ہونے والی جنگی صورتحال نے عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے اور حکومت سے احتساب کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔
 
جنگی صورتحال اور عوامی دباؤ
 
غزہ، لبنان اور ایران کے ساتھ جاری تنازعات نے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رکھا ہے۔ شمالی اسرائیل میں سرحدی کشیدگی اور میزائل حملوں کے اثرات کے باعث بڑے علاقے متاثر ہوئے ہیں جبکہ غزہ میں جاری جنگ نے انسانی اور سیاسی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اسرائیلی دفاعی افواج پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے ریاستی سکیورٹی پالیسیوں کو چیلنج کر دیا ہے۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
 
نیتن یاہو پر سیاسی دباؤ
 
عوامی جائزوں کے مطابق بڑی تعداد میں شہری بینجمن نیتن یاہو کو دوبارہ اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان پر بدعنوانی، رشوت اور دھوکہ دہی کے مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں، جس نے ان کی سیاسی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی "سکیورٹی رہنما" کی شبیہ کو موجودہ جنگی صورتحال نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ناقدین کے مطابق مسلسل جنگوں کے باوجود اسرائیل کو نہ مکمل سکیورٹی ملی اور نہ ہی واضح سیاسی کامیابی حاصل ہوئی۔
 
اپوزیشن کی تقسیم
 
اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد کی کمی واضح نظر آتی ہے۔ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور اپوزیشن رہنما یائر لاپید کے درمیان ممکنہ اتحاد کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اندرونی اختلافات اس اتحاد کو کمزور کر رہے ہیں۔ اسی دوران سابق آرمی چیف گادی آیزنکوٹ نے بھی الگ سیاسی دھڑا بنا لیا ہے، جس سے اپوزیشن مزید تقسیم کا شکار ہو گئی ہے۔
 
انتخابی نظام
 
اسرائیل کے پارلیمانی نظام میں 120 نشستوں پر مشتمل کنیسٹ میں داخلے کے لیے سیاسی جماعتوں کو کم از کم 3.25 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی نظام اکثر چھوٹی جماعتوں کے اتحاد اور سیاسی جوڑ توڑ کو اہم بنا دیتا ہے۔
 
مجموعی صورتحال
 
ماہرین کے مطابق آنے والے انتخابات اسرائیل کے سیاسی مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف موجودہ قیادت جنگ اور سکیورٹی پالیسیوں کا دفاع کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن جنگی نتائج، معاشی دباؤ اور عوامی ناراضی کو بنیاد بنا کر تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے اور اسرائیلی سیاست ایک بڑے فیصلہ کن موڑ کی جانب بڑھ رہی ہے۔