اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں فلسطینیوں کو پھانسی دینے والا متنازع قانون پاس ہو گیا ہے۔ اس قانون کے تحت اسرائیلی جیلوں میں قید ویسٹ بینک کے فلسطینی قیدیوں کو 90 دنوں کے اندر پھانسی دی جائے گی۔
اسرائیل کی جیلوں میں فی الحال 11 ہزار سے زائد فلسطینی قیدی ہیں، جن میں 4,500 بچے بھی شامل ہیں۔ اب ان سب کو کسی بھی وقت پھانسی دیے جانے کا امکان ہے۔
قانون پاس ہونے کے بعد اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتامار بین گویر نے اس کا جشن منایا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ خوشی کا اظہار کیا اور سب کو ڈرنکس بھی پلائیں۔ بین گویر نے اس قانون کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا، جلد ہی ہم انہیں ایک ایک کر کے پھانسی دیں گے۔
پارلیمنٹ میں کیا ہوا؟
جب یہ بل پیش کیا گیا تو وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو بھی موجود تھے۔ 120 نشستوں والی کنیسٹ میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سمیت 62 قانون سازوں نے منظور کیا، اس کے خلاف 48 ووٹ ڈالے گئےجبکہ ایک غیر حاضر رہے۔ قانون پاس ہونے کے بعد دائیں بازو کے اراکین خوشی سے جھوم اٹھے اور زور دار تالیاں بجائیں۔
ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسپیکر بھی قانون پاس ہونے پر بہت خوش ہیں اور اپنی خوشی کھل کر ظاہر کر رہی ہیں۔
اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ اسرائیل-حماس جنگ کے دوران قیدیوں کی ادلا بدلی میں فلسطینی قیدیوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اگر یہ قیدی زندہ نہ ہوتے تو غزہ میں اسرائیلی یرغمال بھی آزاد نہ ہو پاتے۔ بحث کے دوران اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا تھا۔