Tuesday, September 08, 2026 | 24 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں و کشمیر: وزیر صحت کی یقین دہانی پر میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال ختم

جموں و کشمیر: وزیر صحت کی یقین دہانی پر میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال ختم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Sep 08, 2026 IST

جموں و کشمیر: وزیر صحت کی یقین دہانی پر میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال ختم
موں و کشمیر کے میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرن نے منگال کو اپنی ہڑتال ختم کرنے، اور اپنی ڈیوٹی دوبارہ  رجوع ہونے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر صحت اور طبی تعلیم سکینہ مسعود ایتو نے کی یقین دہانی کے بعد میڈیکل انٹرنز نے ہڑتال واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر سکینہ ایتو نے کہا کہ میڈیکل انٹرنز کو وظیفہ بڑھانے کے ان کے مطالبے کو 30 دنوں کے اندر حتمی شکل دی جائے گی۔تربیتی ایم بی بی ایس اوربی ڈی ایس ڈاکٹروں وفد میں شامل ایک رکن نے کہا کہ ہم نے وزیرصحت سے ملاقات کی اور ہمیں یقین دلایا گیا کہ ہمارا معاملہ30 دنوں کے اندر حل کر لیا جائے گا۔وفد کے رکن نے کہا کہ یقین دہانی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 میڈیکل انٹرنز کے حکومت سے مذاکرات

وزیر صحت اور میڈیکل انٹرن کے وفد کے درمیان چار اور نو ستمبر 2026 کو ہو ئی میٹنگ کے ریکارڈ نوٹ کے مطابق انٹرنز نے وزیر صحت سکینہ ایتو کو موجودہ وظیفہ کے ڈھانچے سے آگاہ کیا اور ان کے فرائض، کام کے بوجھ اور ذمہ داریوں کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب نظر ثانی کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔میٹنگ کی صدارت وزیر سکینہ ایتو نے کی اور اس میں پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر، ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ ،ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر کا نمائندہ اور جموں و کشمیر کے مختلف میڈیکل کالجوں کی نمائندگی کرنے والے میڈیکل انٹرن کے وفد نے شرکت کی۔وزیر نے وفد کو تحمل کے ساتھ سنا اور کہا کہ، جو خدشات اٹھائے گئے ہیں ان پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ، حکومت ان مسائل سے باخبر ہے اور ان کے جائز تحفظات کے بارے میں حساس ہے۔

30 دن  کے اندر معاملے کو حل کرنے کی یقین دہانی 

وزیر نے وفد کو بتایا کہ یہ معاملہ پہلے ہی زیر غور ہے اور 27 جون 2023 گورنمنٹ آرڈر نمبر جے کے ایچ ایم ای کے ذریعے اس مسئلے کی جامع جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس بات کا بھی مشاہدہ کیا گیا کہ اس معاملے کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے اور بغیر کسی تاخیر کے اس لیے کہ انٹرنز کا قیمتی وقت اور تعلیمی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بری طرح متاثر نہ ہوں اور ہسپتال کی خدمات اور مریضوں کی دیکھ بھال بلا تعطل جاری رہے۔تفصیلی غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ وظیفہ بڑھانے والی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر اور انٹرنز کے جائز مفادات اور تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کو 30 دن کے اندر حتمی شکل دی جائے گی۔ایسے میں میڈیکل انٹرن نے مریضوں کی دیکھ بھال کے وسیع تر مفاد میں اور اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی ہڑتال ختم کرنے اور فوری طور پر اپنی ڈیوٹی دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔

وظیفہ12300سے بڑھاکر 30ہزار کرنے کی مانگ 

واضح رہے کہ جموں و کشمیر کی صحت اور طبی تعلیم کی وزیر سکینہ ایتو نے ہفتہ کے روز احتجاج کرنے والے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز سے اپنی ڈیوٹی دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ وظیفہ میں اضافہ کا ان کا مطالبہ زیر غور ہے اور حکومت ان کے خدشات کو نظر انداز نہیں کرے گی۔واضح رہے انٹرنز ڈکٹروں نے 31 اگست کو ہڑتال شروع کی تھی اور وہ اپنے ماہانہ وظیفہ کو تقریباً 12,300 روپے سے بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔