Thursday, August 27, 2026 | 12 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • بجلی شرحوں میں اضافہ: حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے: احتجاجیوں کی اپیل

بجلی شرحوں میں اضافہ: حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے: احتجاجیوں کی اپیل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 27, 2026 IST

بجلی شرحوں میں اضافہ: حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے: احتجاجیوں کی اپیل
پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر حکومت کو بجلی کے نرخوں میں اضافے پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ غریبوں کو ریلیف دیا جا سکے، جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی لاگت سے دوچار ہیں۔ایکس پر ایک پوسٹ میں، سابق وزیر اعلیٰ نے پولیس کی مبینہ طور پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے کارکنوں کو ٹیرف میں اضافے کے خلاف احتجاج کرنے کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن برائے جموں و کشمیر اور لداخ نے جموں و کشمیر کے لیے بجلی کے نرخوں میں اوسطاً 6.83 فیصد اضافے کو منظوری دی ہے، جو یکم ستمبر سے نافذ العمل ہوگا۔

 یکم ستمبر سے مجوزہ اضافہ کی مخالفت 

پی ڈی پی سمیت حزب اختلاف کی جماعتیں اس اضافے پر حکومت پر تنقید کر رہی ہیں اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تاہم کہا ہے کہ یہ اضافہ حالیہ برسوں میں سب سے کم ہے اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی حکومت کی مجبوری ہے۔محبوبہ نے اپنی پوسٹ میں کہا، "200 یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کرنے والی حکومت نے لوگوں پر تقریباً 7 فیصد  اضافی بوجھ ڈالا ہے۔ حکومت کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور بہت ضروری ریلیف فراہم کرنا چاہیے، خاص طور پر غریبوں کو، جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے جدوجہد کر رہے ہیں،"۔

 احتجاجیوں کو حراست میں لینے کی مذمت 

پی ڈی پی کارکنوں کی مبینہ حراست پر، انہوں نے کہا، "وادی کے مختلف حصوں سے رپورٹس آرہی ہیں کہ پولیس پی ڈی پی رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے رہی ہے اور بجلی کے بلوں میں اضافے کے خلاف پرامن احتجاج کرنے پر ان کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔"

 کولگا م میں پی ڈی پی کا احتجاج 

پی ڈی پی کے نائب صدر سرتاج مدنی نے جمعرات کو ضلع کولگام میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی جبکہ کپواڑہ، بارہمولہ، ترال، پلوامہ اور اننت ناگ میں بھی اسی طرح کے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ پی ڈی پی یونٹ ترال کی جانب سے آج بجلی کے ٹیرف  میں اضافہ  کو لیکر ایک احتجاج کیا، احتجاج کی قیادت ممبر اسمبلی ترال رفیق احمد نایک کر رہے تھے احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرس رکھے تھے جن میں  بجلی نرِخوں میں اضافہ کو لیکر نعرے درج تھے۔ انھوں نے کہا کہ پی ڈی پی عنقریب  چینی اور دئگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اچھال کو لیکر بھی احتجاج درج کرے گی۔

ترال میں پی ڈی پی کا احتجاج 

بجلی کے ٹیرف میں اضافے کے خلاف پی ڈی پی کارکنان کے شدید احتجاج کے بعد، ایم ایل اے رفیق احمد نائیک کی قیادت میں ایک وفد نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ترال سے ملاقات کر کے انہیں عوامی مسائل پر مبنی میمورنڈم پیش کیا۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا کر ٹیرف میں حالیہ اضافے کو ناقابلِ قبول قرار دیا اور جموں و کشمیر میں 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اے ڈی سی ترال نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات کو کاروائی کے لیے متعلقہ اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے گا۔

 شوپیان میں احتجاج

شوپیان میں پی ڈی پی نے بجلی کے بلوں میں نئے ماہ سے ہو رہے اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔ پارٹی کارکنان نے موجودہ حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اس فیصلہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کے اس دور میں عوام پہلے ہی بھاری بجلی بلوں سے پریشان ہیں جبکہ مزید اضافہ ان کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔

اننت ناگ میں احتجاج 

اننت ناگ میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پی ڈی پی   کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج کی صدارت پی ڈی پی کے ضلع صدر ایڈووکیٹ جاوید شیخ نے کی، جبکہ پارٹی کے دیگر لیڈران اور کارکنان نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے بجلی نرخوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

پلوامہ میں احتجاج

 پی ڈی پی پلوامہ یونٹ نے بجلی کے نرخوں میں مجوزہ  اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔ ضلعی صدر جی ایم شاہورہ نے حکومت سے اضافی نرخ واپس لینے اور انتخابات میں کیے گئے 200 یونٹ مفت بجلی کے وعدے کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ جبکہ اس موقعہ پر ڈسٹرکٹ پبلسٹی سیکریٹری پیر حفیظ نے بھی منصف ٹی وی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا۔

 اپنی پارٹی کارکنان کا احتجاج 

اپنی پارٹی کارکنان کی جانب سے اننت ناگ میں  بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج کی قیادت  پارٹی کے ضلع صدر سرور مفتی نے کی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سرور مفتی نے کہا کہ لوگ حکومت سے بھیک نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ اپنے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سرور مفتی کے مطابق اگر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو اپنی پارٹی سڑکوں پر اتر کر احتجاج میں مزید شدت لائے گی۔ احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو سڑک پر آنے سے روک دیا، جس کے باعث مظاہرین نے موقع پر ہی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔