Thursday, September 03, 2026 | 19 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • !سری نگر میں این سی،احتجاج کے جواب میں بی جے پی کا بھی احتجاج: سڑکوں پر حکومت اور اپوزیشن

!سری نگر میں این سی،احتجاج کے جواب میں بی جے پی کا بھی احتجاج: سڑکوں پر حکومت اور اپوزیشن

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Sep 02, 2026 IST

!سری نگر میں این سی،احتجاج کے جواب میں بی جے پی کا بھی احتجاج: سڑکوں پر حکومت اور اپوزیشن
سری نگر میں آج   حکمراں جماعت این سی اور اپوزیشن بی جے پی ایک دوسرے کےخلاف سڑکوں پر اْتر آئے۔ نیشنل کانفرنس (این سی) نے ریاستی درجہ کی بحالی کی مانگ کو لیکر  بی جےپی دفتر کے گھیراؤ کا اعلان کیا تھا۔ وہیں بی جے پی نے این سی حکومت کے انتخابی وعدے پورے نہیں کرنے کا الزام لگاکر سکریٹریٹ  پر احتجاج کرنےکا پروگرام بنایا تھا۔  دونوں پارٹیاں بدھ کو سرینگر کی سڑکوں پر اپنے اپنے مطالبات کو لے کر احتجاج کرتی نظر آئیں۔ دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے پر جموں و کشمیر کے لوگوں کی توقعات پر پورا نہیں اترنے کا الزام لگایا۔ نیشنل کانفرنس کے احتجاج میں ریاست کی بحالی، آئینی ضمانتوں اور نوجوانوں کے لیے اقدامات کے مطالبات پر توجہ مرکوز کی گئی، جب کہ بی جے پی نے این سی کی قیادت والی حکومت پر ترقی، روزگار، بجلی اور دیگر بنیادی خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا۔  اہم سیاسی پارٹیوں کےاحتجاج سے سڑکوں پرکچھ دیر کےلئے کشیدگی دیکھی گئی۔

 این سی کا احتجاج کو پولیس نے ناکام بنایا 

پولیس نے آج سری نگر میں نیشنل کانفرنس کے اس احتجاجی مارچ کو ناکام بنا دیا جو بی جے پی کے مارچ کے جواب میں  بی جے پی دفتر گھیراؤ کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس احتجاج میں شامل پارٹی اراکینِ پارلیمنٹ، قانون ساز اسمبلی کے اراکین   اور سینئر رہنماؤں اور کارکنوں کو پولیس نے راج باغ پولیس اسٹیشن کے قریب آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس دوران پولیس اہلکاروں اور نیشنل کانفرنس کے قانون سازوں کے درمیان تکرار، دھکم پیل اور بدنظمی کے شدید مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ پولیس نے نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق سمیت متعدد سینئر رہنماؤں کو احتیاطی تحویل میں لے لیا ۔

 پارلیمنٹ میں  کئے گئے وعدے کو پورا کرنے کی مانگ 

 جموں و کشمیر کی حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کی جانب سے دفعہ 370 اور ریاست کے درجے کی بحالی کے حق میں ایک احتجاجی مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر پارٹی رہنماؤں نے 5 اگست 2019 کو ختم کی گئی خصوصی آئینی حیثیت کی واپسی کے عزم کا اعادہ کیا۔ کابینہ وزیر سکینہ ایتو نے نئی دہلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ  میں جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے نیشنل کانفرنس کے پرامن مارچ پر پابندی عائد کرنے کو سراسر غیر جمہوری اقدام قرار دیا، جبکہ بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے ایم ایل اے جاوید بیگ نے بھی مرکزی حکومت سے فوری طور پر ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

 این سی حکومت کی مبینہ ناکامیوں پر بی جےپی کا احتجاج 

عمرعبداللہ کی زیرِ قیادت حکومت کی مبینہ ناکامیوں کے خلاف احتجاج درج کرانے کے لیے، بھارتیہ جنتا پارٹی  نے آج 'سیکریٹریٹ گھیراؤ' کی کال دی تھی۔ راجیہ سبھا کے رکن ست شرما اور  اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کی قیادت میں بی جے پی کا مارچ لال چوک کے گھنٹہ گھر سے شروع ہوا، تاہم پولیس نے مظاہرین کو سول سیکریٹریٹ پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا۔ اس دوران مشتعل کارکنان نے پولیس بیریگیڈز عبور کرنے کی کوشش کی، جس کے جواب میں پولیس نے ہلکا لاٹھی چارج کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ اس موقع پر قائدِ حزبِ اختلاف نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ مفت بجلی، بے روزگار نوجوانوں کو نوکریاں اور مفت گیس سلنڈر دینے جیسے اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حکومت پر کرپشن کے سنگین الزامات بھی عائد کیے۔

 بی جےپی کارکنوں کو چھوٹ، این سی کارکنوں کی پٹائی کا الزام 

 جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سرینگر میں نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کے احتجاجی مظاہروں کے درمیان کسی بھی قسم کے موازنے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کا رویہ دونوں جماعتوں کے ساتھ یکسر مختلف رہا۔ سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک جماعت کو احتجاج کی تمام تر سہولیات فراہم کی گئیں جبکہ دوسری پر وحشیانہ تشدد کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ این سی کارکنوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور وہ شدید زخمی ہوئے، جن میں سے متعدد کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ حزبِ اختلاف کے رہنما کی جانب سے لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ تحقیقاتی ایجنسیاں ان کے ماتحت نہیں ہیں ۔

ریاستی درجے کی بحالی کو روکنے کی ایک سازش

نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کے معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دھمکیوں کے ذریعے جموں و کشمیر میں خوف کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اور اسے ریاستی درجے کی بحالی کو روکنے کی ایک سازش قرار دیا۔ ڈاکٹر فاروق نے اننت ناگ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران  کہا کہ اگر مرکزی حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ جموں و کشمیر میں امن قائم ہو چکا ہے اور ملی ٹینسی کا خاتمہ ہو گیا ہے تو پھر ایسے واقعات کے بارے میں واضح جواب بھی مرکزی  حکومت کو دینا چاہیے۔