جموں وکشمیر ایک نئے ثقافتی اورسنیما کے سفر کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول جموں و کشمیر (IFFJK) کا انعقاد 7 سے 10 ستمبر تک کیا جائے گا۔ فیسٹیول میں عالمی سنیما، معروف فلم سازوں اور خطے کے فلمی مستقبل سے متعلق مختلف پروگرام پیش کیے جائیں گے۔حکام کے مطابق جموں و کشمیر محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (DIPR) کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا یہ فیسٹیول خطے کے ثقافتی سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس کا مقصد جموں و کشمیر کے فلم سازی سے تاریخی تعلق کو دوبارہ بحال کرنا اور اسے ایک اہم بین الاقوامی فلمی مقام کے طور پر فروغ دینا ہے۔
92 ممالک سے تقریباً 1100 فلمیں موصول
فیسٹیول کے پہلے ایڈیشن کو دنیا بھر سے بھرپور ردعمل ملا ہے۔ حکام کے مطابق 92 ممالک سے تقریباً 1100 فلمیں موصول ہوئیں، جن میں سے 40 سے زائد ممالک کی نمائندگی کرنے والی 135 فلموں کو نمائش کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔منتخب فلمیں ’رنگِ ای سنیما‘ تھیم کے تحت مختلف زمروں میں دکھائی جائیں گی، جن میں انٹرنیشنل پینوراما، بھارت پینوراما، سنیما آف دی ورلڈ، دستاویزی فلم، ہائبرڈ ڈاکیومنٹری اور جے اینڈ کے سلیکٹ شامل ہیں۔
9 زمروں میں 96 لاکھ روپے کے انعام
فیسٹیول میں نو ایوارڈ کیٹیگریز رکھی گئی ہیں اور مجموعی طور پر 96 لاکھ روپے کا انعامی پرس رکھا گیا ہے۔ بہترین فلم کے لیے 25 لاکھ روپے، بہترین ہدایت کار اور بہترین ڈیبیو ڈائریکٹر کے لیے 15،15 لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ جے اینڈ کے سلیکٹ ایوارڈ کے تحت 10 لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا، جس کا مقصد جموں و کشمیر سے متعلق علاقائی کہانیوں اور فلم سازی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
معروف فلم شخصیات پر مشتمل جیوری
فیسٹیول کی جیوری میں ہندوستانی اور بین الاقوامی سنیما کی معروف شخصیات شامل ہیں۔ مشہور بھارتی سنیماٹوگرافر اور فلم ساز سنتوش سیوان بھی جیوری کا حصہ ہیں۔ ان کے کام کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے، خصوصاً فلم ’دی ٹیررسٹ‘ کے لیے انہیں عالمی سطح پر سراہا گیا۔جرمن فلم ساز اور برلینیل پروگرامر ڈوروتھی وینر بھی جیوری میں شامل ہیں۔ وہ 1990 سے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول سے وابستہ رہی ہیں اور ہندوستان و سب صحارا افریقہ کے لیے پروگرامر اور مندوب کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔
جاپانی دستاویزی فلم ساز اور میڈیا انٹرپرینیور کیکو بینگ، قومی ایوارڈ یافتہ فلم ساز اور ایس آر ایف ٹی آئی کے سابق ڈائریکٹر ہمانشو شیکھر کھٹوا اور معروف بھارتی اسکرین رائٹر سری رام راگھون بھی جیوری کا حصہ ہیں۔ سری رام راگھون ’بدلاپور‘ اور ’اندھادھون‘ جیسی فلموں کے لیے معروف ہیں۔
رمیش سپی اور ودھو ونود چوپڑا بھی شرکت
فیسٹیول میں معروف فلم ساز اور ’شعلے‘ کے ہدایت کار پدم شری ایوارڈ یافتہ رمیش سپی اور مشہور فلم ساز ودھو ونود چوپڑا مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔ ودھو ونود چوپڑا ’تھری ایڈیٹس‘، ’پی کے‘ اور ’مشن کشمیر‘ جیسی کامیاب فلموں کے لیے جانے جاتے ہیں۔
ڈل جھیل پر تیرتا ہوا سنیما توجہ کا مرکز ہوگا
IFFJK کو صرف فلموں کی نمائش تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے ایک جامع ثقافتی تجربے کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ فیسٹیول کی اہم تقریبات جھیل کے کنارے واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (SKICC) اور INOX سری نگر میں منعقد ہوں گی۔اس کے علاوہ گلمرگ میں بھی ایک روزہ خصوصی پروگرام رکھا گیا ہے۔ گلمرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اس موقع پر ایک خصوصی پروگرام ترتیب دیا ہے، جس میں خطے کی قدرتی خوبصورتی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا جائے گا۔ڈل جھیل پر تیرتا ہوا سنیما فیسٹیول کی خاص کشش میں شامل ہوگا۔ اس موقع پر جھیل کے اطراف صفائی اور خوبصورتی کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
ماسٹر کلاسز اور ورکشاپس کا بھی اہتمام
فیسٹیول کے دوران معروف فلم سازوں، ماہرین تعلیم اور میڈیا ماہرین کی شرکت سے ماسٹر کلاسز، ورکشاپس، پینل مباحثے، گول میز کانفرنسیں اور خصوصی گفتگو کے سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔مقامی یونیورسٹیوں کے طلبہ کو بھی فلم سازی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور فلم انڈسٹری سے وابستہ تجربہ کار شخصیات سے براہ راست بات چیت کا موقع ملے گا۔ توقع ہے کہ دنیا بھر سے 300 سے زائد مندوبین فیسٹیول میں شرکت کریں گے، جس سے فلم سازوں اور سنیما سے وابستہ افراد کے درمیان تعاون، نیٹ ورکنگ اور ثقافتی تبادلے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
کشمیر کو دوبارہ فلمی نقشے پر لانے کی کوشش
DIPR کے جوائنٹ ڈائریکٹر شاہنواز بخاری نے کہا کہ فیسٹیول کا مقصد کشمیر کو اس کے شاندار سنیما ورثے سے دوبارہ جوڑنا ہے۔ ان کے مطابق بالی ووڈ کے عروج کے دور میں جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر فلموں کی شوٹنگ ہوا کرتی تھی، تاہم وقت کے ساتھ حالات کی وجہ سے یہ رجحان کم ہوگیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہماری کوشش ہے کہ کشمیر کو دوبارہ فریم میں لایا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر صرف فلموں کا پس منظر نہ رہے بلکہ خود فلم کا فریم بنے۔‘‘
فیسٹول ہرسال منعقد کرنے کا عزم
بخاری نے کہا کہ حکومت عالمی سطح پر معروف فلمی میلوں، خصوصاً کانز جیسے بڑے ایونٹس سے تحریک لیتے ہوئے اس فیسٹیول کو ہر سال منعقد کرنے اور اسے ایک مستقل ادارہ بنانے کی سمت میں کام کرنا چاہتی ہے۔حکام کے مطابق IFFJK 2026 نہ صرف عالمی سنیما کا جشن ہوگا بلکہ اس کے ذریعے جموں و کشمیر کے قدرتی مناظر، ثقافتی ورثے، مقامی تخلیقی صلاحیتوں اور سیاحتی امکانات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔ فیسٹیول سے امید کی جا رہی ہے کہ کشمیر کو دنیا بھر کے فلم سازوں، فنکاروں اور سنیما کے شائقین کے لیے ایک اہم اور متحرک مرکز کے طور پر فروغ دینے میں مدد ملے گی۔