Sunday, September 06, 2026 | 22 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ اسمبلی اجلاس کیلئےحکومت اور اپوزیشن کی حکمت عملی تیار

تلنگانہ اسمبلی اجلاس کیلئےحکومت اور اپوزیشن کی حکمت عملی تیار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Sep 06, 2026 IST

تلنگانہ اسمبلی اجلاس کیلئےحکومت اور اپوزیشن کی حکمت عملی  تیار
 پیر سے تلنگانہ اسمبلی کا مانسون اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ حکمراں جماعت کانگریس اور اپوزیشن  اجلاس کےلئےتیار ہیں۔ اپوزیشن ریونت حکومت کے ہزار دن مکمل ہونے پراہم مسائل پر گھیرنے کی تیاری کرلی ہے۔ ادھرحکومت اپوزیشن کے حملوں کا جواب دینے کیلئے تیاری کرلی ہے۔
 اسمبلی اجلاس سے ایک دن پہلے حکمراں جماعت کانگریس  اصل اپوزیشن  بی آر ایس پرجم کرحملہ بولا۔

کانگریس نے  کےسی آر سے مانگا استعفیٰ

 حیدرآباد میں بی آر ایس سربراہ کے چندرشیکھر راؤ کے خلاف کانگریس نے مہا دھرنا منعقد کیا ۔ٹی پی سی سی کی قیادت میں منعقدہ اس احتجاج میں کانگریس قائدین نے اپوزیشن لیڈر کے عہدے اور ایم ایل اے کی پوسٹ سے استعفیٰ دینے کا کے سی آر سے مطالبہ کیا۔کانگریس قائدین کا الزام ہے کہ کے سی آر گزشتہ ایک ہزار دنوں سے اسمبلی سے غیر حاضر ہیں۔جبکہ بطور ایم ایل اے اور اپوزیشن لیڈر سرکاری مراعات حاصل کر رہے ہیں۔کانگریس رکن پارلیمنٹ انیل کمار یادو نے بھی کے سی آر کی اسمبلی سے غیر حاضری پر سوال اٹھائے ۔ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ نے بی آر ایس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر کے دورِ حکومت میں صرف ان کے خاندان کو ہی ملازمتیں ملی تھیں ۔ٹی پی سی سی میڈیا اینڈ پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین اور بھونگیر کے رکن پارلیمنٹ چاملا کرن کمار ریڈی نے بھی کے سی آر سے اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔

کےسی آر کی اسمبلی سےغیر حاضری پر سوال 

دھرنا چوک پر ریاستی وزیر محمد اظہرالدین بھی  شریک تھے انہوں نے اپوزیشن لیڈر کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اظہرالدین نے کہا کہ کے سی آر گزشتہ ایک ہزار دنوں سے فارم ہاؤس سے باہر نہیں نکل رہے ۔اور ایک ہزار دنوں سے اسمبلی میں بھی حاضر نہیں ہوئے۔انہوں نے سوال کیا کہ ،کیا ۔کے سی آر کو اسمبلی آنے سے خوف محسوس ہو رہا ہے؟۔وزیر اظہرالدین نے کہا کہ جو اپوزیشن لیڈر اسمبلی میں نہیں آتے، انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

 کانگریس اور بی آر ایس حکومت پربحث کا چیلنج 

کانگریس پارٹی کے ذریعہ منعقدہ مہادھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کانگریس کے ایک ہزار دن کے دور حکومت اور بی آر ایس کی دس سالہ بدکاری کے درمیان فرق پر کہیں بھی عوامی بحث کے لئے تیار ہیں اور کیا بی آر ایس قائدین میں اس چیلنج کو قبول کرنے کی ہمت ہے؟ انھوں  نے کہا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ان کی حکومت غریبوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے رہی ہے جبکہ ماضی میں کے سی آر کی طرف سے اٹھائے گئے بھاری قرضوں کو اٹھاتے ہوئے وہ غریبوں میں چاول تقسیم کر رہی ہے جیسا کہ ملک میں کوئی دوسری ریاست نہیں ہے۔  

ریاستی وزیر امور مقننہ کی بی آر ایس سےمانگ 

وزیرامور مقننہ  ڈی  سریدھر بابو نے تلنگانہ میں اپوزیشن بی آر ایس قیادت کو مکمل طور پر سمت کھونے اور گمراہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سڑکوں پر غیر ضروری احتجاج اور میڈیا کے سامنے بولنے کی بجائے اسمبلی اجلاسوں میں اگر حکومت سے براہ راست سوال کیا گیا تو وہ ہر بات کا جواب دیں گے۔ 

 بی آر ایس ایل پی کا اجلاس 

 اسمبلی اجلاس سے پہلے بی آر ایس سربراہ کے چندرشیکھر راؤ نے فارم ہاؤس میں پارٹی کے ارکان اسمبلی  اور قانون ساز کونسل کے ساتھ اہم اجلاس منعقد کیا۔تلنگانہ کے پہلے چیف منسٹر اور بی آر ایس چیف کے سی آر نے پارٹی کے ایم ایل سی اور ایم ایل ایز کو ہدایات دیں۔ کل سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاسوں کے پس منظر میں بات کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ "ہر کسی کو اسمبلی اجلاسوں میں ضرور شرکت کرنی چاہئے۔ انہیں قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں ہونے والی ہر بحث میں حصہ لینا چاہئے۔ عوامی مسائل پر حکومت کو جوابدہ ہونا چاہئے۔ انہیں کانگریس اور بی جے پی کی پالیسیوں کو دونوں ایوانوں میں بے نقاب کرنا چاہئے۔"

ہزار دن کی حکمرانی فلا پ شو: کےسی آر 

کے سی آر کو یہ کہتے ہوئے برطرف کردیا گیا کہ سی ایم ریونت اسمبلی کے اندر اور باہر بکواس کررہے ہیں۔ وہ حکومت کرنے کے قابل ہونے کے بغیر اس انداز میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی ہزار دن کی حکمرانی فلاپ ہے۔ کانگریس اپنے تیسرے درجے کی حکمرانی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ کانگریس کا جانا یقینی ہے۔ ریونت بکواس کر ر ہے ہیں ۔ کانگریس کا الیکشن ہارنا یقینی ہے۔ اس پارٹی کے قائدین اس بات کو سمجھ چکے ہیں۔ اس لیے وہ اس کا استحصال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کا جانبدارانہ رویہ غیر جمہوری ہے۔ کے سی آر نے الزام لگایا کہ اسپیکر ایوان میں متعصبانہ رویہ سے کام لے رہے ہیں۔

تلنگانہ بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کا اہم اجلاس 

تلنگانہ بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔تلنگانہ اسمبلی کے پیر سے شروع ہونے والے اجلاس سے قبل  پارٹی کی اہم میٹنگ بلائی گئی تھی ۔بی جے پی صدر ،این رام چندر راؤ کی موجودگی میں منعقدہ اجلاس میں پارٹی کے ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل نے شرکت کی۔اجلاس میں اسمبلی کے اندر اٹھائے جانے والے عوامی مسائل اور حکومت کی کارکردگی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔بی جے پی قائدین نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت اپنے ایک ہزار دن کے دورِ اقتدار میں انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔این رام چندر راؤ نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت محض رسمی کارروائی کے طور پر اسمبلی اجلاس منعقد کرا رہی ہے۔ بی جے پی ترجمان این وی سبھاش نے مطالبہ کیا کہ اسمبلی اجلاس کم از کم ایک ہفتے تک جاری رہنا چاہیے، کیونکہ کئی اہم مسائل پر بحث ضروری ہے۔

 اسمبلی اجلاس میں عوامی مسائل اٹھانے پر دیا زور

حیدرآباد میں تلنگانہ رکشنا سینا کی صدر کلواکنٹلا کویتا نے اسمبلی اجلاس میں عوامی مسائل پر اہم اقدامات کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ اسمبلی کا اجلاس کل سے شروع ہورہا ہے اور حکومت کو اس اجلاس میں فیس ریگولیشن ایکٹ پیش کرنا چاہیے، کیونکہ کئی غریب خاندان پرائیویٹ تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔انہوں نے حکومت سے ہیٹ اسپیچ بل پیش کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔